اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 130 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 130

۱۳۰ اور باب دیده عشاق وخاکپائے کیسے مرادی است کہ درخون تپد بجائے کسے ان اشعار کی حقیقت سے آشنا اور جس دل سے نکالے اور بار بار پڑھے جایا کرتے تھے، اس کی کیفیت کا واقف علیم وخبیر۔قادر و توانا خدا ہے۔خدا تعالیٰ کے حضور خالی ہاتھ جانے کی حسرت کا احساس ، ایک سلیم دل اور قلب صافی کی سچی ٹیس۔ارحم الراحمین خدا کے حضور شرف قبولیت پائے بغیر نہیں رہ سکتی۔خدا نے ان کی دنیا اور دنیا کے سارے ہموم و عموم کو دین خالص اور اپنی ذات کی جستجو وطلب میں سعی و کوشش بنا کر قبول فرما لیا تھا۔ان سب باتوں کیساتھ سب سے اہم اور بڑی بات سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعائیں جو حضور ان کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور کیا کرتے تھے۔کس اضطراب، گدازش اور سوز و نیاز سے کی جاتی ہوں گی۔وہ انسان کامل نہ صرف بیگانوں اور غیروں بلکہ اپنے جانی دشمنوں تک کے لئے انتہائی در درکھتا ہو۔اور ان کی بہبودی کے واسطے اپنی جان عزیز تک گداخت کر دینے کا عادی ہو۔اپنے شفیق باپ کے لئے کیا نہ کرتا ہوگا۔ان باتوں اور ان کے دیگر احوال کو یکجائی نظر سے دیکھنے سے ان بزرگ مرحوم و مغفور کا مقام عالی قرب اور وصال سامنے آنے لگتا ہے۔اور دل ان کی محبت سے بھر جاتا ہے۔ان کی عظمت سے ڈر جاتا ہے اور بے ساختہ دل سے دعائیں نکلنے لگتی ہیں۔علی الخصوص جبکہ ان کے نیک انجام۔خاتمہ بالخیر اور وصال الی اللہ کا سانحہ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے عزا پرسی کے معاملہ پر غور کیا جائے۔تو اس بزرگ ہستی کی قدر و قیمت اور مرتبہ و مقام کی رفعت معلوم ہوتی ہے۔کتنے ہی دنیا میں ایسے انسان جن کی وفات پر خدا نے اولاد کو پیغام ہمدردی بھیجا ہو ؟ سبحان ما اعظم شانہ۔ان کا آخری عمل ( تھا ) یعنی تعمیر مسجد اور آخری خواہش ( تھی) کہ اسی مسجد کے ایک کو نہ میں میری قبر ہوتا اللہ جل شانہ کا نام میرے کان میں پڑتا رہے۔کیا عجب کہ یہی ذریعہ مغفرت ہو۔“ قادیان کے عروج کے زمانہ کی مساجد کے حالات اور تذکرے ان کی خوبصورت، وسعت اور شان وشوکت کی روایات اور آبادی و معموریت کی داستانیں آپ نے اپنے بزرگوں سے سنی ہوں گی۔جن۔میں قادیان میں آبیٹھنے والے علماء فضلاء، حفاظ اور اولیاء واقطاب کے علاوہ آس پاس کے قلعوں کے حکام وامراء، نیز افواج اور ان کے سردار ہر جمعہ کو جمع ہوتے اور نمازیں گزارا کرتے تھے۔ان کی یاد کتنی دلدوز