اصحاب احمد (جلد 9) — Page 103
۱۰۳ پاس تھے جو افسوس ہے کہ کچھ تو میرے راجپوتانہ بھیجے جانے کے زمانہ میں جبکہ ۱۹۰۳ء کے اواخر سے دسمبر ۱۹۰۷ ء تک سید نا حضرت اقدس کے حکم سے مکر می حضرت مرزا محمد احسن بیگ صاحب کے ساتھ مجھے بھیجا گیا تھا، بعض اور سامانوں کے ساتھ ضائع ہو گئے۔اور بعض بعد میں ایک چوری میں چلے گئے جو کہ حقیقتہ ایک سازش کا نتیجہ تھی جو بعض مخرجین نے کسی خاص غرض سے کی یا کرائی تھی۔کیونکہ خصوصیت سے خطوط اور دستاویزات کا چن چن کر اس میں نقصان ہوا تھا۔“ ( تحریر مورخہ ۳ /نومبر ۱۹۴۶ء) محترم شیخ محمود احمد صاحب عرفانی نے ان مکتوبات کو الحکم میں درج کرتے ہوئے یہ ذکر کیا ہے۔کہ دو سال پہلے بھائی جی کے ہاں چوری ہونے پر مکتوبات کا ضیاع ہوا تھا اور بھائی جی وہاں تحریر کرتے ہیں : ایک زمانہ میں مجھے مؤقر اخبار الحکم کی اسٹنٹ ایڈیٹری کی سعادت میسر تھی جس کے سلسلہ میں اکثر اوقات سید نا حضرت اقدس مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت بابرکت میں خود حاضر ہوکر یا بذریعہ تحریر حضور پرنور کے تازہ الہامات کشوف اور رویا دریافت اور صحیح کراتے رہنے کی ذیل میں اس قسم کی بیسیوں تحریر یں حضور والا شان کے دست مبارک کی رقم فرمودہ میرے پاس تھیں۔جن کو میں نے تبر کا محفوظ رکھا ہوا تھا۔بدقسمتی سے بعض ناگوار حادثات میں ایسی تمام تحریرات نیز بعض اور حضور کے دست مبارک کے لکھے ہوئے کاغذات محفوظ نہ رہ سکے۔اور ان کے ضائع ہو جانے کے باعث میں ان تبرکات سے محروم رہ گیا۔انا للہ وانا اليه راجعون۔صرف ایسے چند تبرکات میری خوش نصیبی سے کسی مصلحت الہی کے ماتحت بیچ رہے۔“ یہ مکتوبات ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔محترم بھائی جی نے تحریر کیا: (1) بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آقائی و مولائی اید کم اللہ تعالیٰ حضور ! آپ کا ایک الہام جس کا مضمون یہ ہے۔آریوں کا بادشاہ آیا۔اس کے اصل الفاظ کیا ہیں؟ فقط عبدالرحمن قادیانی ۱۵ مارچ ۱۹۰۸ء