اصحاب احمد (جلد 9) — Page 61
۶۱ خیال کیا اور جو کچھ فرمایا۔یہ سب کچھ ایک طرف میرے سامنے تھے۔اور دوسری طرف وہ بستی اور وہ عزیز ورشتہ دار جن کو میں ۶ جون ۱۸۹۵ء کو ہمیشہ کے لئے الوادع کہہ کر نکل کھڑا ہوا تھا اب پھر آنکھوں کے سامنے آ رہے تھے۔بلکہ ہر قدم مجھے ان کے قریب کرتا جا رہا تھا۔ایسے نازک وقت میں میرے دل میں کیا کیا گزر رہا تھا۔اور کس کس قسم کے خیالات اٹھتے اور کیا کیا اثرات پیدا کرتے تھے اور ان کا جمع کرنا اور لکھنا میرے لئے ناممکن گاؤں اور گھر میں آؤ بھگت والد صاحب ذرا پہلے پہنچ چکے تھے اس وجہ سے مرد اور عورتیں ہمیں دیکھنے کو گھر سے نکل کھڑے ہوئے اور ہمیں آتا دیکھ کر جو جس کے جی میں آتا کہتا۔جتنے منہ اتنی باتیں تھیں۔کوئی خوشی کا اظہار کرتا تھا کوئی ملامت کر کے دکھے دل کو اور بھی دکھاتا تھا۔کسی کا لہجہ مشفقانہ تھا تو کسی کا سخت وکرخت اور طعن آلود اور بیبا کا نہ۔اکثر نے مصلحت اور حکمت سے نصیحت کا پہلو اختیار کیا۔اس طرح مجھے تلخ و گرم اور سر دونرم میں سے گذرتے ہوئے کوارٹر تک جانا پڑا۔جہاں عورتوں کا ہجوم والدہ محترمہ اور عزیزہ ہمشیرہ کو مبارکباد کہنے کی غرض سے جمع تھا۔اہلیہ کی وجہ سے میرے ساتھ واجبی سلام کلام تک اکتفا رہا۔اور شکوے شکایت اور غم وغصہ کے اظہار کو فی الحال ملتوی رکھا گیا اور موقعہ کے مدنظر بڑے ضبط سے کام لیا گیا۔اور مستورات دیہ اور گھر والوں کی ساری توجہ انہیں کی طرف منعطف ہوگئی۔بلکہ یہ سلسلہ سارا دن جاری رہنے کی وجہ سے مجھے علیحدہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور عرض حال کرنے اور دن کے فرائض ادا کرنے کا موقعہ مل گیا۔رات کو فرصت ہونے پر والدہ محترمہ ہمشیرہ عزیزہ اور میرے دونوں بھائی میرے گرد جمع ہوئے اور لگے باری باری سے اپنے دلوں کا بخار اور سینوں کی بھڑاس نکالنے۔گھر والوں کو میرے اسلام کی اطلاع تھی اس وجہ سے ان کے دل بہت ہی بھرے ہوئے تھے۔نہ معلوم دن بھر کس طرح ضبط سے انہوں نے کام لیا اور کیسے اتنا لمبا صبر کر سکے۔اس فرصت اور نہائی میں جہاں سبھی پھوٹ پھوٹ کر روئے۔وہاں والدہ محترمہ نے تو حق مادری کا بھی دل کھول کر استعمال فرمایا۔اور جوش رنج میں یہاں تک بڑھ گئے کہ چاقو لے کر اپنے سینہ تک کو چاک کر کے مجھے اپنے داغہائے دل دکھانے کو آمادہ ہو گئے۔اور اگر عزیزہ ہمشیرہ ہوشیاری اور ہمت سے کام لے کر ان کا ہاتھ نہ روک لیتیں تو خدا معلوم کیا ہو جاتا۔میں سر ڈالے بیٹھا تھا مجھے تو خبر بھی نہ تھی۔-