اصحاب احمد (جلد 9) — Page 40
۴۰ رات کے اندھیرے میں سوتے کی چار پائی اٹھو الا ئیں گے۔کوئی ہمارا مقابلہ نہ کر سکے گا۔میں اچانک والد صاحب کی گرفت میں آجانے کی وجہ سے ابھی پریشان اور بالکل خاموش تھا۔چند منٹ بعد سنبھلا تو عرض کیا چلیں حضرت صاحب کے ڈھیرے کی طرف تشریف لے چلیں اور ساتھ ہی پوسٹ ماسٹر کو جلدی منی آرڈر کرنے کو کہا۔مگر وہ بڑا شریر آدمی تھا اس نے موقعہ کو غنیمت سمجھ کر دوسرے کام شروع کر دیئے اور میر امنی آرڈر پیچھے اٹھارکھا اس کی غرض یہ تھی کہ میرے والد صاحب اچھی طرح سے باتیں کر لیں کیونکہ عین ممکن تھا کہ اس کے خیال کے مطابق میرے والد صاحب کو پھر مجھ سے اس طرح باتیں کرنے کا موقعہ نہ ملے۔غرض اس طرح چند منٹ اور دیر ہوگئی اور میں والد صاحب کے پاس بیٹھا ان کی باتیں خاموشی سے سنتا رہا اور والد صاحب بھی مصلحت وقت کے ماتحت اس وقت نہایت ہی محبت، شفقت اور ہمدردی کی باتیں کرتے رہے اور ایسے واقعات سناتے رہے جن سے میرا دل پگھلے اور نرم ہوا اور والدہ اور بھائی بہنوں کی محبت میرے سینے میں جوش مار کر تازہ ہو۔نہ معلوم کس طرح کسی اپنے یا بیگانے کے ذریعہ ہمارے ڈیرے میں یہ بات جا پہنچی کہ عبدالرحمن کو اس کے والد اور ہندوؤں نے پکڑ لیا ہے۔اور ڈاک خانہ کے اندر روک رکھا ہے۔یہ افواہ ڈیرے میں پہنچی اور فوراً ہی کسی نے اندر سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام تک بھی پہنچادی جس کے سنتے ہی حضور پاک فداہ روحی حرم سرا سے باہر تشریف لے آئے اور نہ معلوم حضور کی اجازت یا حکم سے یا خود بخودہی بڑے بڑے بزرگ مجھ نا کارہ و نا چیز کی امداد کے لئے ڈاک خانہ کو روانہ ہو گئے اور ڈیرے سے ڈاکخانہ تک موجود الوقت بزرگان سلسلہ کا ایک تانتا بندھ گیا۔اتنے میں پوسٹ ماسٹر نے بھی مجھے فارغ کر دیا تھا اور میں نے والد صاحب کو حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہونے پر رضامند کر لیا تھا۔چنانچہ والد صاحب کھڑے ہوئے تھے اور میں بازار میں اتر چکا تھا۔دیکھتا کیا ہوں کہ حضرت نانا جان مرحوم۔حضرت حاجی حکیم فضل الدین صاحب بھیر دی۔پیر جی سراج الحق صاحب نعمانی۔بھائی عبدالرحیم صاحب۔بھائی عبد العزیز صاحب اور بہت سے لوگ جن کے اسماء اور ان کا خیال مرور زمانہ کی وجہ سے ذہن سے اتر گیا ہے چلے آرہے ہیں کوئی آگے ہے کوئی پیچھے۔کوئی تیز آ رہا ہے اور کوئی دوڑ کر۔اس سچی محبت حقیقی اخلاص اور دلی ہمدردی کا اثر میرے قلب سے آج تک زائل نہیں ہوا جو اس واقعہ کی اطلاع سے ان بزرگوں میں میرے لئے پیدا ہوا تھا۔میں والد صاحب کو لے کر بازار سے ڈیرے کو روانہ ہوا۔میرے محسن مہربان شفیق اور دوست بھی میرے ساتھ