اصحاب احمد (جلد 9) — Page 35
۳۵ قبول احمدیت کے کچھ مزید حالات۔آپ کا اسلامی نام کس نے رکھا۔عبد الرحمن نام کے احمدی قادیان میں حضرت بھائی جی نے ایک طویل چٹھی دفتر بہشتی مقبرہ کو ۸رظہور ۳۱۹اهش مطابق ۸/اگست ۱۹۴۰ء کو رقم فرمائی جو مفید تاریخی امور پر مشتمل ہے۔ایک حصہ یہاں درج کیا جاتا ہے:۔مجھے بچپنے میں ہی اللہ کریم نے کفر سے نکال کر دولت ایمان عطا فرمائی اور میری خوش بختی کو اپنے فضل سے یوں چار چاند لگائے کہ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قدموں میں لا ڈالا اور حقیقت یہ ہے کہ اسلام کو میں نے حضور پُر نور ہی کی صحبت میں سیکھا اور یہ اللہ کریم کا فضل تھا کہ اس طرح مجھے اسمی اور رسمی اسلام کے بجائے حقیقی اور صحیح اسلام کی نعمت میسر آئی۔وو ۲- عبدالرحمن میرا اسلامی نام سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی کی زبان مبارک سے رکھا ہوا نام ہے جو حضور پر نور نے مسجد مبارک کے وسطی حصہ میں بیٹھے ہوئے ۱۳۱۱/۱۳۱۲ ہجری المقدس کو تجویز فرمایا تھا۔جبکہ اللہ کریم نے مجھے حضور کے دست مبارک پر خلعت اسلام اور سعادت بیعت سے نوازا اور سرفراز فرمایا تھا۔خیمہ انجام آتھم میں حضور پر نور نے جو فہرست ۳۱۳ خدام کی شائع فرمائی اس کے ۱۰۱ نمبر پر مجھ ناکارہ کا نام درج ہے۔اس زمانے میں ابھی اتنے عبدالرحمن قادیان میں نہ تھے۔کہ تخصیص کی ضرورت ہوتی۔جالندھری ، لاہوری، زرگر، کتھا سنگھ اور قادیانی کہلانے کا وہ زمانہ ہے جبکہ قادیان میں کئی عبدالرحمن جمع ہو گئے اور نو مسلم عبد الرحمن حضور پر نو رکوعبدالرحمن نام تجویز فرمانے کی طرف زیادہ رجحان تھا۔جب کئی عبد الرحمن نو مسلم ہو گئے تو تمیز کے لئے جالندھری۔لاہوری۔زرگر۔کتھا سنگھ اور عبدالرحمن قادیانی کے نام سے یاد ہونے لگے۔یہ خدا کی دین ہے کہ مجھ نا لائق کے حصہ میں قادیانی کا نام مبارک آیا۔خدا کرے یہ مبارک نام ہمیشہ ہی میرے اور میری اولاد کے حصے میں رہے۔لفظاً بھی اور معنا بھی۔ظاہراً بھی اور باطناً بھی۔آمین۔ابتدائی زمانہ کی فہرستوں میں میرا نام شیخ عبد الرحمن نومسلم قادیانی کر کے لکھا جاتارہا۔یا بعض جگہ صرف شیخ عبدالرحمن قادیانی۔ہم وصیت کے سلسلہ میں دوسری جگہ درج کیا گیا ہے۔