اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 407 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 407

۴۰۷ تھے۔یہی لوگ ہمارے شہر، روحانی بارش برسانے والے بادل اور دین کے پہاڑ تھے۔یہی خیر و برکت کے موجب اور مجسم دین وسکون تھے۔جب تک موت ان کو نہیں لے گئی۔حوادث ومصائب زمانہ نے ہم پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔ان کی جدائی کے سبب ہمارے قلوب انگاروں کی طرح تپ رہے ہیں اور ہم ان وجودوں کی جدائی پر اتنے آنسو بہاتے ہیں کہ اس کے چشمے ہی پھوٹ پڑتے ہیں۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان قیمتی وجودوں کے تاقیامت زندہ رہنے والے نمونوں کو اپنانے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔تاثرات مولوی برکات احمد صاحب محترم مولوی برکات احمد صاحب را جیکی بی۔اے در ولیش ناظر امور عامه وخارجہ قادیان رقم فرماتے ہیں: زمانہ درویشی میں چار قدیمی اور نہایت مخلص صحابہ کا وجود قادیان میں نمایاں حیثیت کا حامل تھا۔یعنی حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب قادیانی حضرت منشی محمد دین صاحب واصل باقی نویس۔حضرت بابا صدرالدین صاحب قادیانی اور حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی۔یہ سب اپنے اپنے رنگ میں روشنی کے مینار تھے۔اور ان کا وجود درویشوں کے لئے بہت ہی بابرکت تھا۔حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی کی سب سے بڑی خصوصیت ان کا حضرت اقدس مسیح موعود اور آپ کے مقدس اہل بیت سے والہانہ عشق و محبت تھا۔نہ صرف یہ کہ آپ کا قلب ان مقدسین کی محبت اور احترام کے جذبہ سے سرشار تھا۔بلکہ عملی رنگ میں آپ کی والہانہ شیفتگی کا اظہار ہر حرکت وسکون سے ہوتا تھا۔جب آپ حضرت اقدس مسیح موعود اور سیدۃ النساء حضرت ام المومنین اور خاندان اہل بیت کے کسی فرد کا ذکر کرتے تو آپ کی حالت مجسم عشق اور ممنونیت کی ہوتی۔اور آپ نہایت دلچسپ اور روح افزاء انداز میں ان مقدسین کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو بیان کرتے اور احسانات کو یاد کرتے ہوئے چشم پر آب ہو جاتے اور بار بار اسی بات کا اظہار کرتے کہ ہم کچھ نہ تھے اس مقدس خاندان کی غلامی میں اللہ تعالیٰ نے سب کچھ دیا اور اتنا دیا کہ اس کا شکر ادا کرنا بھی ممکن نہیں۔یہ اسی محبت اور احترام کا تقاضا تھا کہ حضرت بھائی جی کو بارہا مسجد مبارک کے دروازہ پر حضرت اقدس مسیح موعود کے ایک نونہال کے جوتوں کو اپنے ہاتھ سے سیدھا کرتے دیکھا گیا۔ایسی خدمات میں آپ