اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 391 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 391

۳۹۱ مغرب کے بعد تکلیف کافی کم ہو گئی۔آپ کو اطلاع دے کر میں نے ۳۰-۹ بجے رات کراچی میں آپ کی شدید علالت کی اطلاع فون پر کر دی ۵/ جنوری کی صبح کو آپ نے دریافت فرمایا کہ میں نے کراچی عبدالرزاق کو فون کیا تھا؟۔میں نے عرض کیا۔یہ کہ اباجی کی طبیعت خراب ہے۔فرمایا یہ کہنا تھا کہ حالت اچھی نہیں ہے۔میں نے کہا کہ اگر طبیعت اچھی نہ ہوئی تو صبح فون کر دوں گی آپ لاہور پہنچ جائیں۔فرمایا نہیں۔آج ہم خود کراچی جا رہے ہیں۔آپ نے اپنے سامنے بستر بندھوایا۔اور پگڑی اور سوٹی لے کر خود ہی باہر صحن میں جا کر دھوپ میں لیٹ گئے۔شام کو لاہور اسٹیشن پر بوجہ کمزوری کرسی پر بٹھا کر گاڑی میں سوار کرایا گیا۔اس موقعہ پر ایک آیت پڑھی اور فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ ! ہمارا سفر آسان اور کم کر دے۔عزیز عبدالہادی کو جو ایک روز پہلے روانہ ہونا تھا آپ کی علالت کے باعث روک کر ساتھ ہی رکھا تھا آپ کی کمزوری کے باعث تیز گام کی سیٹیں منسوخ کرا کے کراچی ایکسپریس میں سیکنڈ کلاس کی سیٹیں لی گئیں۔محترمہ بیان کرتی ہیں کہ گاڑی کی روانگی سے قبل میں نے آپ کے کمپارٹمنٹ میں جا کر دیکھا کہ آپ کو جگہ ٹھیک مل گئی ہے۔فرمایا بہت اچھی جگہ ہے جزاک اللہ اور دعائیں دیں اور سر پر ہاتھ پھیرا۔رات کو پونے بارہ بجے کے قریب عزیز عبدالہادی نے بتایا کہ ابا جی کی طبیعت بہت خراب ہے۔اس اطلاع کے دوران آپ خود اٹھے۔پیشاب کیا ، طہارت کی۔اپنی سیٹ پر بیٹھے اور اماں جی سے پانی مانگ کر پیا۔اماں جی نے پاؤں سہلائے اور جسم کو مزید گرم کپڑوں میں لپیٹا۔بدر ) فرمایا۔بہت خدمت کی ہے جزاک اللہ۔اور خاموش ہو گئے۔اتنے میں عزیز عبدالہادی صاحب بھی آگئے۔دوائی پلانے کی کوشش ناکام رہی دوتین لمبے سانس لیتے ہوئے آپ اپنے مولا حقیقی سے جاملے۔انالله و انا اليه راجعون ۲۴۸ تھوڑی دیر بعد خانیوال اسٹیشن آ گیا۔اور وہاں یہ سب اتر پڑے اور رات کے ۳۰۔۲ بجے عبدالہادی صاحب نے اپنے والد صاحب کو فون پر اس واقعہ کی اطلاع دی۔جنہوں نے اپنے بیٹے کو مقامی جماعت سے رابطہ پیدا کرنے کو کہا۔چنانچہ وہ ایک قلی کی راہ نمائی میں احباب جماعت کی تلاش میں نکلے اور جلدی مقامی جماعت کے متعدد افراد اسٹیشن پر آجمع ہوئے۔مہتہ عبد القادر صاحب نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی خدمت میں فون پر اطلاع دی۔آپ نے فرمایا۔ہم اماں جی (یعنی حضرت بھائی جی کی اہلیہ محترمہ) کو کہہ رہے تھے کہ بھائی جی کو نہ لے کر جائیں اچھا۔۔۔۔۔انا لله وانا اليه راجعون“