اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 390 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 390

۳۹۰ بھائی جی کا قادیان سے ربوہ اور کراچی کا سفر نیز انتقال اور نماز جنازہ قادیان سے جلسہ سالانہ ربوہ میں شمولیت کے لئے ۲۴ دسمبر ۱۹۶۰ء کوایک بڑا قافلہ روانہ ہوا۔اس میں بھائی جی۔آپ کی اہلیہ محترمہ اور آپ کی بہو اہلیہ محترمہ مہتہ عبدالرزاق صاحب جو پاکستان سے قریب میں آئی تھیں ) بھی شامل تھے۔آپ کی بہو بیان کرتی ہیں کہ جلسہ سالانہ ربوہ کے بعد ۳ / جنوری کو کراچی کے سفر کے لئے تیاری کی جارہی تھی بھائی جی نے نہایت ہی رقت آمیز لہجے میں سینکڑوں دفعہ یہ شعر پڑھا اے ربوہ کی بستی تجھ پر سلام ہووے تجھ پر خدا کی رحمت ہر دم مدام ہووے اور مجھے دو تین دفعہ فرمایا کہ بچی ! روانگی سے قبل میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سے نہیں ملا۔تم نے مجھے کراچی سے واپس ربوہ پہنچانے کا انتظام کرنا ہوگا۔دس بجے کے قریب پیدل بس کے اڈہ پر پہنچے اور ہر آنے جانے والے سے السلام علیکم کہتے ، گلے ملتے۔اور ایک گھنٹہ تک جو بس کے انتظار میں بیٹھنا پڑا۔اس وقت بھی اور وہاں سے روانگی کے وقت بھی یہی شعر نہایت رقت اور دردمندانہ آواز سے بہ آواز بلند پڑھتے رہے۔چار بجے شام لاہور میں مکرم قریشی محمود احمد صاحب (ایڈووکیٹ ) کے ہاں پہنچے جہاں آپ ہمیشہ آمد ورفت کے وقت قیام کرتے تھے۔رات کو بارہ بجے یکدم تکلیف شروع ہوئی۔سینہ میں آگ لگ گئی۔تمام گرم کپڑے اتار دیئے۔دروازہ کھلوا کر باہر جانا چاہا۔قریشی صاحب کی طرف سے ہر ممکن علاج کیا گیا جس سے قدرے سکون ہوا۔۴ /جنوری کو دو بجے بعد دو پہر پھر سر اور سینہ میں شدید تکلیف ہوئی جس سے بے چین ہوکر اٹھتے بیٹھتے لیٹتے مگر کسی کروٹ چین نہ پڑتا۔اسی حالت میں ظہر وعصر ادا کیں۔تکلیف کے دوران میں یہ شعر پڑھتے تھے اب کچھ نہیں ہے باقی دے شربت تلاقی پلا ساقی۔پلا ساقی