اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 389 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 389

۳۸۹ نہیں رہ اس کی عالی بارگاہ تک خود پسندوں کو خدا کی کبریائی، جبروت و عظمت ، اس کی عزت و جلال اور شوکت، اس کا کمال سطوت و ہیبت ، جن مقدس ترین ہستیوں پر ظاہر ہو کر جلوہ گر ہوا اور چمکا وہ تو با وجود باکمال اور مظہر جمال و جلال ہونے کے بے اختیار پکار اٹھے کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار اور چونکہ عارفین و کاملین کا یہ اعتراف حقیقت پر مبنی ، ان کے دل کی گہرائیوں کا آئینہ دار اور ہر قسم کی بناوٹ اور ریا کی ملونی سے کلیۂ منزہ تھا۔علام الغیوب راز داں ہستی نے ان کے دلوں کو جھانکا اور ان کے اندرونہ دل کی نہاں در نہاں کیفیتوں پر نظر کر کے خود اپنے ہاتھ سے ان کو اٹھا کر نوازا اور اَنْتَ وَجِيَّة فِي حَضْرَتِي اخْتَرُ تُكَ لِنَفْسِي ۲۴۶ کا خطاب دیا۔اور اس طرح دنیا جہان کے لئے ایک اسوہ قائم کر کے یہ عقدہ حل فرما دیا کہ جو میرے لئے موت اختیار کرتے ہیں ان کو ایسی حیات بخشتا ہوں۔جس کے بعد پھر موت نہیں اور جو میرے لئے ذلت قبول کرتے ہیں میں ان کو ایسی عزت عطا کرتا ہوں جس کے بعد کوئی ذلت نہیں۔غرض خدا کی کسی نعمت کو بھی چھوٹا سمجھ کر غفلت کرنا اور شکر نعمت میں ہر وقت سرشار نہ رہنا ایک روحانی موت کا مقام ہے۔اور اس کی کسی عطا، انعام و دین کو اپنے کئے کا پھل محنت کی کمائی یا علم و ہنر کا نتیجہ سمجھنا یقینا بدنصیبی اور محرومی کا مترادف ہے میں نے جو کچھ بھی لکھا اور ظاہر کیا کانپتے ہوئے دل اورلز رتے ہوئے ہاتھوں سے ڈرتے ڈرتے خدا کی بے نیازی اور نکتہ گیری سے کانپتے کانپتے کیا ہے۔ورنہ من آنم کہ من دانم والی بات ہے۔کہاں میں کہ کفر و شرک کے اتھاہ گڑھے اور ظلمت وضلالت کے بے پناہ سمندروں میں غرق ، کہاں یہ فضل کہ نور ایمان عطا فرمایا۔نعمت اسلام بخشی اور ایسا نوازا۔ایسا نوازا کہ اس بزرگ و برتر ہستی کے قدموں میں لا ڈالا۔اس کی زیارت کے لئے لاکھوں نہیں کروڑوں صلحاء اور اولیاء امت ترستے ترستے ہی کوچ کر گئے۔یہ فضل ، یہ کرم یہ ذرہ نوازی یقینا یقیناً سراسر احسان ، سرتا پا فضل ، اور ابتداء تا انتہاء موہبت اور بخشش ہی کا رنگ رکھتی ہے۔جس کے لئے میری روح آستانہ ءالوہیت پر ۲۴۷ سر بسجود ہے۔