اصحاب احمد (جلد 9) — Page 387
۳۸۷ کو روڑے مار کر زخمی کرتی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال والے سفر میں بھائی جی نے حضور کی خدمت میں تحریراً عرض کیا کہ حضور کی خادمہ کا خط آیا ہے کہ رات کے وقت ہمیں تنہائی کی وجہ سے خوف آتا ہے۔کیونکہ جس مکان میں میں رہتا ہوں وہ بالکل باہر ہے۔حضور نے حفاظت کے انتظام کی ایک تجویز رقم فرمائی۔وفات آپ کی وفات پر الفضل بابت ۲۸ / اپریل ۱۹۷۵ء میں مرقوم ہوا: محترمہ اہلیہ صاحبہ حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی وفات پاگئیں انا لله وانا اليه راجعون افسوس کے ساتھ لکھا جاتا ہے کہ محترمہ اہلیہ صاحبہ حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی رضی اللہ عنہا ۲۳ را پریل ۱۹۷۵ء کو سات بجے صبح بمقام کراچی حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے مختصر علالت کے بعد تقریباً ۹۵ سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔انا للہ وانا اليه راجعون۔مرحومہ اپنی آخری علالت میں اپنے پوتے مکرم عبد الباسط صاحب مهته (ابن مکرم عبدالرزاق صاحب مہتہ ) کے پاس فروکش تھیں جنہوں نے خود اور ان کی والدہ محترمہ نے جانفشانی کے ساتھ حق خدمت ادا کیا۔جنازہ بذریعہ ہوائی جہاز لائکپور اور وہاں سے ربوہ لایا گیا۔رات نو بجے بعد نماز عشاء نماز جنازہ محترم صوفی غلام محمد صاحب ناظر بیت المال (خرچ) نے پڑھائی جس کے بعد مرحومہ کا جسد خا کی مقبرہ بہشتی ربوہ میں سپردخاک کر دیا گیا۔تدفین مکمل ہونے پر محترم صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے دعا کرائی۔مرحومہ موصیبہ اور صحابیہ تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ بڑی اچھی طرح اپنی آنکھوں سے دیکھا۔حضور علیہ السلام اپنے اہل بیت کے ہمراہ جب صبح سیر کو جایا کرتے تھے تو حضرت اماں جان کے ہمراہ مرحومہ بھی شریک سیر ہوتی تھیں۔اپنے بزرگ شوہر حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی رضی اللہ عنہ کے دوش بدوش سلسلہ کی خدمات کے لئے کمر بستہ رہتی تھیں۔فریضہ حج بھی ادا کر چکی تھیں۔سب سے چھوٹے بیٹے مکرم عبدالسلام صاحب ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے وفات کے وقت حاضر نہ ہو سکے۔اکلوتی بیٹی امتہ الرحیم خانم صاحبہ آخری وقت پہنچ گئیں۔