اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 386 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 386

۳۸۶ کو روکنا پسند نہیں کرتیں۔اور وہ بھی کہتیں کہ آپ چلے جائیں۔صبح حضرت سیدہ ام ناصر صاحبہ میرے پاس تشریف لائیں اور تعجب سے کہا کہ بھائی جی نے حضور کو بتا کیوں نہ دیا۔میں نے کہا کہ ایسے موقع پر میں خدمت سے روک دیتی تو نہ معلوم اس کا نتیجہ کیا نکلتا۔اب وہ خدمت سلسلہ کے لئے گئے ہیں تو آکر بچے کو زندہ سلامت دیکھ لیں گے۔“ آپ سناتی تھیں کہ ایک دفعہ میری انگلی کے جڑ دار پھوڑے کا اپریشن ہوا۔میں گھر پر بھی بیہوش پڑی تھی کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی طرف سے پیغام ملا کہ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کا تبادلہ ہو گیا ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ بھائی جی آکر لے جائیں۔سو بھائی جی مجھے بچوں کے سپر د کر کے روانہ ہو گئے۔اس رات چار چور ہمارے مکان میں آئے۔مکان کے ایک الگ حصہ میں بھائی جی کا ایک شاگر در ہتا تھا۔اس نے چوروں کا مقابلہ کیا تب ہم نقصان سے محفوظ رہے۔آپ نے یہ بھی بتایا کہ محترمہ صاحبزادی امتہ القیوم صاحبہ کا جہیز، لاہور سے خریدنے کے لئے بھائی جی اور مجھے خدمت کا موقع دیا گیا۔عرصہء درویشی میں آپ کو قادیان میں قیام کرنے کا موقعہ ملا۔ابتدا میں ایک ہی ویزا پر آٹھ بارسفر کیا جاسکتا تھا۔اور ہر دو ماہ بعد باڈر پار کرنا ضروری ہوتا تھا۔بارڈر پار کر کے اس وقت واپس آنے کی بھی اجازت تھی۔ایک دفعہ خاکسار مؤلف نے بھائی جی سے شام کو پوچھا کہ اماں جی واپس نہیں آئیں۔انہوں نے تو بارڈر عبور کر کے اسی وقت واپس آنا تھا۔فرمایا۔وہ اسی نیت سے قادیان سے روانہ ہوتی ہیں لیکن بارڈر عبور کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان سے محبت کا جذبہ ابھر آتا ہے۔اور وہ ان کی ملاقات کرنے کے لئے آگے چلی جاتی ہیں۔سو اس وجہ سے آپ بے چین ہو جاتیں اور بغیر ملاقات کے واپس نہ آتیں۔حضرت بھائی جی کی وفات کے بعد آپ ایک دفعہ زیارت قادیان کے لئے تشریف لائیں۔ان چند روزہ قیام میں خاکسار مؤلف کے گھر بھی آئیں اور خاکسار کے گھر میں بتلایا کہ ہمارا مکان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں بہت دور اور الگ سمجھا جاتا تھا۔(اس وقت مکان حضرت مولوی نورالدین صاحب کے مکان کے شمال میں قصر خلافت والے چوک کے قریب تھا ) اور یہ مکان غیر محفوظ تھا۔بھائی جی کی عدم موجودگی میں چور متواتر آتے تھے۔اور بعض دفعہ ایک سے زیادہ ہوتے تھے۔یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ میں جاگ رہی ہوں کبھی میں زور زور سے چرخہ کاتنے لگتی۔کبھی کسی برتن میں روڑے پھینک کر زور سے آواز پیدا کرتی۔میں ان کو باتیں کرتے سنتی کہ یہ عورت سوتی ہی نہیں۔ہمیشہ بیدار رہتی ہے کبھی میں ان