اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 380 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 380

۳۸۰ وصیت میں نے ابتغاء بوجہ اللہ کی ہے۔جہاں تک میری طاقت اور سمجھ ہے وصیت پر قائم ہوں۔مگر بصورت نہ ہونے کسی آمد کے میں حصہ آمد کس چیز کا ادا کروں“۔میں نے مکرمی محرر صاحب دفتر کی خدمت میں زبانی عرض بھی کیا تھا۔مگر معلوم ہوتا ہے کہ ان کا منشاء بھی میرے ان حالات کو بصورت تحریر دیکھنے ہی کا ہے۔میں چاہتا تھا کہ اپنے حالات سے کسی کو آگاہ نہ کروں۔مگر مجبوراً ان مطالبات کے جواب میں مختصر عرض کرنا پڑا ہے۔کیونکہ ایسے مطالبات کے جواب سے پہلو تہی بھی ایک قسم کا گناہ ہے۔اس وجہ سے یہ کچھ عرض کرنا پڑا جو کراہتہ عرض کیا گیا ہے۔امید کہ اگر (اللہ تعالیٰ) کوئی راہ کھول دیں گے تو حصہ آمد کی ادائیگی سے ہرگز دریغ نہ ہوگا۔“ کیا کہ -۲ اس زمانہ میں سلسلہ شدید مالی بحران میں مبتلا تھا۔چنانچہ آپ نے اکتوبر ۱۹۲۸ء میں دفتر کو تحریر ایک عرصہ سے میں اپنی وصیت میں کچھ ادا نہیں کر سکا۔(نو) ماہ سے میں دفتر میں کام پر ہوں۔مگر میرا بجٹ ہی پاس ہونے میں نہیں آتا۔“ آپ مزید تحریر کرتے ہیں کہ طلباء کے معائنہ ، صحت اور خاموش ورزش کی جو مشین بہت مفید ہے۔پینتیس روپے میں مجھ سے تعلیم الاسلام ہائی سکول نے خرید لی تھی۔میرے پاس ایسی دو مشینیں ہیں جو مدارس کو ساٹھ روپے میں دی جاسکتی ہیں اور یہ رقم مارچ تا دسمبر ۱۹۲۸ء کے عرصہ کے لئے میرے حصہ آمد میں جمع کر لی جائے۔محترم ہیڈ ماسٹر صاحب گرلز سکول نے ایک مشین لے کر چار اقساط میں رقم ادا کرنے کا وعدہ کیا۔چندہ ماہ بعد دفتر بہشتی مقبرہ نے پہلی قسط (ساڑھے سات روپے ) کا مطالبہ کیا تو ہیڈ ماسٹر صاحب نے تحریر کیا کہ وو وہ مشین میں واپس کرنے ہی والا تھا کیونکہ ہمارے پاس روپیہ نہیں ہے۔نہ ہماری اپنی تنخواہ ملتی ہے۔سائر بل تو الگ رہا۔اگر آپ قیمت ۱۰ روپیہ کر دیں تو وہ بھی اگلے سال کے سائز میں ادا ہو سکے گی۔ورنہ مہربانی فرما کر اپنا آدمی بھیجیں کہ وہ مشین ہمارے ہاں سے لے جاوے۔“ آپ نے جون ۱۹۲۹ء میں دفتر کو تحریر کیا کہ ”میرے پاس کبھی روپیہ جمع نہیں ہوا۔مکان بنا تو خدا نے دیا۔سید نا حضرت خلیفہ لمسیح الثانی کی خاص توجہ اور عطا کا اس میں نمایاں حصہ ہے۔(میرے) روپیہ سے یہ مکان نہیں بنا۔اب میں چونکہ ایک لمبے عرصہ سے بیکار ہوں۔اس مکان کی اینٹیں ہی میرے گزارہ کا ذریعہ ہیں اور