اصحاب احمد (جلد 9) — Page 379
٣٧٩ کے ایک کنارہ سے ایک حصہ الگ ہو چکا ہے۔چار جگہ الفاظ کا کچھ حصہ باقی ہے وہاں اندازہ سے وہ الفاظ نمبر ۱ تا ۴ ڈال کر خطوط وحدانی میں درج کرائے ہیں۔جہاں ورق کا حصہ الگ ہو کر ضائع ہو چکا ہے وہاں نقطے ڈال دیئے گئے ہیں۔عبارت سے معلوم ہو جاتا ہے کہ کیا الفاظ وہاں ہوں گے۔۲۔پہلی وصیت کے گواہان حضرت ماسٹر محمد اسمعیل صاحب سرساوی اور حضرت با بوفقیر اللہ صاحب ہیڈ کلرک میگزین تھے اور دوسری وصیت مطبوعہ فارم پر ۲۸ اکتوبر ۱۹۰۸ء کو لکھوائی گئی تھی۔اس پر ( حضرت ) چوہدری برکت علی خاں صاحب محرر دفتر محاسب قادیان ( بعدہ فنانشل سیکرٹری تحریک جدید - یہ عہدہ اب وکیل المال تحریک جدید کہلاتا ہے ) اور ( حضرت مرزا محمد اشرف صاحب ہیڈ کلرک دفتر محاسب کی شہادتیں ثبت ہیں۔اس مطبوعہ فارم پر نمبر وصیت ۱۴۹/۶۷ مرقوم ہے۔گویا پہلے وصیت کا نمبر ۶۷ تھا۔تاخیر ہو جانے پر نمبر وصیت ۱۴۹ ہو گیا۔گویا پیچھے جا پڑا۔بھائی جی نے اس دوسری وصیت میں تحریر کیا ہے کہ میری ملکیت ایک قطعہ زمین ہے جس کے شمال میں سڑک۔جنوب میں مکان ( حضرت ) پیر منظور محمد صاحب غرب میں مکان حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب اور جانب شرق گلی اور مکان و سفید زمین ( حضرت حکیم ) مولوی قطب الدین صاحب ہے۔قطعہ وصیت کردہ طول میں قریباً چالیس فٹ اور عرض میں قریباً نصف کے انتیس فٹ اور نصف کے چالیس فٹ ہے۔وصیت میں خاکہ بھی درج کیا ہے۔جاری شده سند پر بطور میر مجلس و سیکرٹری صدر انجمن احمد یہ قادیان علی الترتیب حضرت مولوی - لد نورالدین صاحب اور ( حضرت شیخ ) یعقوب علی صاحب کے دستخط ثبت ہیں۔-۵ معلوم ہوتا ہے کہ معمول کی کارروائی کی تکمیل کے لئے مطبوعہ فارم پر حضرت بھائی جی کے بارے تصدیق محترم شیخ یوسف علی صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفہ اسیح الثانی سے چاہی گئی۔شیخ صاحب نے بھائی جی کے بارے ۲۰ / جون ۱۹۲۹ء کو رقم فرمایا : (1) " سلسلہ کے کاموں میں نہایت اخلاص سے بڑھ چڑھ کر اپنی طاقت سے حصہ لیتے رہتے ہیں (۲) خلیفہ وقت کے ساتھ خاص الخاص محبت اور اخلاص کا تعلق ہے جس کا ظہور وقتاً فوقتاً ہوتا رہتا ہے۔“ (۱) مطالبہ بقایا حصہ آمد پر آپ نے دفتر کو اپریل ۱۹۲۷ء میں تحریر کیا کہ میں ایک لمبے عرصہ سے بالکل بیکار بے روزگار پڑا ہوں۔قرض دام سے بسر اوقات ہو رہی ہے۔کوئی آمد نہیں جس کا حصہ آمد ادا کروں۔“