اصحاب احمد (جلد 9) — Page 378
۳۷۸ لئے۔اللہ تعالیٰ صادق الوعد ہے۔غیور ہے۔آپ نے اپنے مکان کی پیشانی پر یہ آیت کریمہ رقم کروائی تھی جو کتاب ہذا کی طبع ثانی کے وقت بھی موجود ہے کہ ۲۴۴ وَمَنْ يُهَاجِرْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَجِدُ فِي الْأَرْضِ مُرغَمًا كَثِيرًا وَسَعَةٌ - گویا اس پر آپ کو یقین کامل تھا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو بلکہ آپ کی اولا د کو بھی صالح اور مومن اقارب دیئے۔آپ کو بہترین رفیق دیئے۔اولاد کے مستقبل کے سود و بہبود کیلئے مال مطلوب ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایسے سامان کر دیئے کہ آپ کے دو بیٹے انجینئر ہو گئے اور ساری اولا دہی آپ کی زندگی میں خوشحال ہو گئی۔اور پھر ان کی وجہ سے بھی آپ کو انفاق فی سبیل اللہ کے مواقع حاصل ہو گئے۔فالحمد لله علی ذالک۔آپ کی وصیت حضرت بھائی جی کی وصیت کے متعلق دفتر بہشتی مقبرہ کے ریکارڈ سے ضروری حصہ پیش کیا جاتا ہے۔آپ تحریر کرتے ہیں: جس زمانہ میں ” الوصیت“ شائع ہوئی، میں سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حکم کے ماتحت قادیان سے باہر تھا۔الوصیت مجھے وہیں حضور پر نور نے بھجوائی اور میں نے اسے پڑھتے ہی تعمیل کی اور وصیت لکھ کر اس میں ا حصہ آمد اور کا حصہ جائداد متروکہ کی وصیت کر دی۔الوصیت سے میں نے جو کچھ سمجھا وہ یہی تھا کہ حصہ آمد اور جائیداد دونوں ( کی ) ہی وصیت لازمی ہے۔میں نے مبلغ ایک سور و پیہ نقد بھی اسی ابتدائی زمانہ میں وصیت کے ساتھ بھیج دیا تھا۔چونکہ (اس زمانہ ) میں صدرانجمن احمد یہ کے سیکرٹری اور کرتا دھرتا جناب مولوی محمد علی صاحب ہی تھے۔لہذا میں نے وصیت اور رقم انہی کے (نام)۔۔۔مگر مولوی صاحب نے اسے روکے رکھا اور روپیہ امانت میں جمع کرا دیا۔کیونکہ ان کے خیال میں میری وصیت کے متعلق (بعض)۔قابل دریافت تھے۔اس طرح میری وصیت باوجود بالکل ابتدائی وصایا میں سے ہونے کے ۱۴۹ نمبر پر جا پڑی۔میں واپس ( آیا ) جب جا کر میں نے روپیہ اور وصیت داخل کرائی۔اسی سنہ و سال میں یعنی ۱۹۰۶ء میں۔اس وجہ سے میری وصیت کا نمبر اتنی دور ہو گیا۔“ آپ کی یہ چٹھی ۸ / ظهور ۱۳۱۹ ھش ( مطابق ۸/اگست ۱۹۴۰ء) کی ہے۔۱۔قریباً اڑتالیس سالہ پرانی اس تحریر کے اوراق مرور زمانہ سے بہت بوسیدہ ہو گئے ہیں۔ایک ورق -1