اصحاب احمد (جلد 9) — Page 360
یہی کثرت ، ہجوم اور انہماک پایا۔مقامات مقدسہ کے کونہ کونہ کے علم پانے کا عموماً ان نو جوانوں کو حریص دیکھا اور پھر عامل بھی۔حتی کہ حالت یہ ہے کہ اس تین ہفتہ کے عرصہ میں میں نے بارہا کوشش کی کہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے بیت الدعاء میں کوئی لمحہ تنہائی کا مجھے بھی مل سکے۔مگر ابھی تک یہ آرزو پوری نہیں ہوئی۔جب بھی گیا نہ صرف یہ کہ وہ خالی نہ تھا۔بلکہ تین تین چار چار نو جوانوں کو وہاں کھڑے اور رکوع و سجود میں روتے اور گڑ گڑاتے پایا۔اسی پر بس نہیں۔بلکہ متصلہ دالان اور بیت الفکر تک کو اکثر بھر پور اور معمور پایا۔تہجد کی نماز چاروں مساجد میں برابر با قاعدگی اور شرائط کے ساتھ باجماعت ادا ہوتی ہے۔اور بعض درویش اپنی جگہ پر بعض اپنی ڈیوٹی کے مقام پر ادا کرتے ہیں۔کھڑے کھڑے چلتے پھرتے بھی ان کی زبانیں ذکر الہی سے نرم اور تر ہوتی دیکھی اور سنی جاتی ہیں۔اور میں یہ عرض کرنے کی جرات کر سکتا ہوں کہ نمازوں میں حاضری اللہ تعالیٰ کے فضل سے سو فیصدی ہے۔درس تدریس اور تعلیم و تعلم کا سلسلہ دیکھ کر دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ہر مسجد میں ہر نماز کے بعد کوئی نہ کوئی درس ضرور ہوتا ہے۔اس طرح قرآن ،حدیث اور سلسلہ کے لٹریچر کی ترویج کا ایک ایسا سلسلہ جاری ہے جس کی بنیاد صحیح اور نیک نیت پر شوق اور لذت کے ساتھ اٹھائی جارہی ہے۔عام علوم کے درس اس کے علاوہ ہیں۔اور روزانہ وقار عمل تعمیر ومرمت۔صفائی ولپائی مکانات، مساجد اور مقابر، راستے اور کوچہ ہا بلکہ نالیوں تک۔اس کے علاوہ خدمت خلق بڑی بشاشت اور خندہ پیشانی سے کی جاتی ہے۔جس میں ادنیٰ سے ادنی کام کو کرنے میں تکلیف، ہتک یا کبیدگی کی بجائے بشاشت ولذت محسوس کی جاتی ہے۔گہیوں کی بوریاں ،آٹے کے بھاری تھیلے اور سامان کے بھاری صندوق ، بکس اور گٹھے یہ سفید پوش، خوش وضع اور شکیلے نو جوان۔جس بے تکلفی سے ادھر سے اُدھر گلی کو چوں میں جہاں اپنے اور پرائے ، مرد اور عورت اور بچے ان کو دیکھتے ہیں۔لئے پھرتے ہیں، قابل تحسین وصد آفرین ہے۔اور ان چیزوں کا میرے دل پر اتنا گہرا اثر ہے جو بیان سے بھی ظاہر ہے۔یہ انقلاب ، تغیر اور پاک تبدیلی دیکھ کر میرے آقا ! بے ساختہ زبان پر جاری ہوا۔ہر بلا کیں قوم را حق داده اند خدا کرے کہ ایسا ہی ہو زیر آن گنج کرم پنهاده اند خدمت خلق کے سلسلہ میں ہمارا ہسپتال جو خدمت بجالا رہا ہے۔وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔