اصحاب احمد (جلد 9) — Page 330
۳۳۰ نے خطاب کیا۔پیغام آسمانی والا مضمون اٹھائیس صفحات کا حضور نے دو گھنٹے میں تحریر کیا اور محترم چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب ساتھ ساتھ ترجمہ کرتے رہے۔- 1۔۱۱۸۹ مذاہب کانفرنس کے پریذیڈنٹ سرای۔ڈی۔راس سابق پرنسپل کالج کلکتہ سے حضور کی ملاقات ہوئی۔وہ انگلستان کے نامور مستشرق ہیں۔علمی باتیں ہوئیں جس سے موصوف بہت خوش ہوئے۔11 سپر پچوٹل سوسائٹی کی جماعت ریفارم کلب کی درخواست پر حضور نے سٹیٹ لوکس ہال میں ”حیاة بعد الموت پر بیالیس منٹ تک تقریر فرمائی۔۱۲۔کرنل ڈگلس سے جماعت احمد یہ متعارف ہے کہ انہوں نے انصاف پسندی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف پادری ڈاکٹر مارٹن کلارک کا مقدمہ خارج کر دیا تھا۔(کتاب البریہ میں حضرت اقدس نے اس مقدمہ کی روئداد شائع کی تھی۔) وہ وقت مقررہ پر ملاقات کے لئے تشریف لائے۔جب حضور آئے تو وہ تعظیماً کھڑے ہو گئے اور نہایت محبت سے انہوں نے کہا کہ آپ میرے دوست کے بیٹے ہیں۔آپ کے والد شریف کو میں دوست رکھتا ہوں۔موصوف کو اس مقدمہ کے واقعات اب تک یاد ہیں۔اور ان کا ذکر وہ اپنے انگریز دوستوں سے کرتے رہتے ہیں۔ان کے دل پر حضرت اقدس کے اخلاق اور عظمت کا خاص اثر ہے۔ان سے ہندوستان کے حالات حاضرہ پر گفتگو ہوئی۔۱۳ - حضرت مولوی نعمت اللہ خاں صاحب ساکن افغانستان حصول تعلیم کے لئے قادیان آئے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے انہیں کابل کے احمدیوں کی تعلیم وتربیت کے لئے کا بل بھجوایا۔والٹی افغانستان امیر حبیب اللہ خاں فروری ۱۹۱۹ء میں قتل کر دیئے گئے۔امیر امان اللہ خاں نے حکومت سنبھال لی اور کامل مذہبی آزادی کا اعلان کر دیا۔وزیر خارجہ افغانستان محمود طرزی صاحب ہندوستان آئے تو نئی حکومت کی پالیسی کے بارے تسلی کے لئے حضور نے ایک وفد ملاقات کے لئے بھیجا۔احمد یہ وفد نے بوجہ احمدیت ، ترک وطن کرنے کے حالات سنائے جس سے افغانستانی وفد کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔محمودطرزی صاحب اور سارے وفد نے یقین دلایا کہ کسی احمدی کو قطعا کوئی تکلیف نہ ہوگی۔ظلم کا زمانہ ختم ہو چکا ہے۔محمود طرزی صاحب کی واپسی پر مولوی نعمت اللہ خاں صاحب نے حضور کی ہدایت پر ملاقات کی اور