اصحاب احمد (جلد 9) — Page 323
۳۲۳ کہ ہم دیکھیں کہ وہ ایسی صورت سے اسلام قبول کرے کہ اسلام ہی کو نہ بدل دے۔۳- رفقائے سفر حضور کے رفقاء سفر احباب ذیل تھے : حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب۔چوہدری فتح محمد صاحب سیال۔مولوی عبدالرحیم صاحب درد۔مولوی ذوالفقار علی خاں صاحب۔حافظ روشن علی صاحب شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی۔بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی۔شیخ عبدالرحمن صاحب مصری۔چودھری علی محمد صاحب۔میاں رحیم دین صاحب اور چودھری محمد شریف صاحب ایڈووکیٹ بعد ہ امیر ضلع ساہیوال۔۔( چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب پہلے ہی روانہ ہو چکے تھے۔قادیان سے روانگی سے پہلے مزار حضرت اقدس پر اور بیت الدعاء میں دعائیں روانگی سے ایک روز قبل صبح کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر حضور نے لمبی دعا کی۔پھر جنوب میں واقع موضع منگل میں سے گذر کر موضع کا ہلواں کی طرف سڑک پر جا کر دوسرے راستہ سے پھر بہشتی مقبرہ میں آئے اور پھر مزار حضرت اقدس پر دعا کی۔مسجد اقصیٰ میں بعد عصر حضور کا رفقاء سمیت فوٹو لیا گیا۔حضور کا لباس تھا سفید پگڑی۔کھلے گلے کا لمبا کوٹ اور سفید شلوار اور رفقاء کا لباس تھا سبر پگڑی۔کوٹ سیاہ بند گلے کا اور پاجامہ۔۱۲ جولائی کو روانگی کے روز صبح ہی حضور نے مزار حضرت اقدس پر دعا کی۔ایک بڑا ہجوم مسجد مبارک کے قریب جمع ہو گیا۔حضور نے صبح آٹھ بجے بیت الدعاء میں لمبی دعا کی۔پھر حضور پا پیادہ احباب سمیت سڑک کے موڑ تک تشریف لے گئے۔اور احباب سمیت لمبی دعا کی۔پھر مجمع میں۔نکل کر حضرت ام المومنین کے پاس گئے۔جنہوں نے دیر تک آپ کو گلے لگا کر دعائیں دیں اور رخصت کیا۔پھر حضور سب احباب سے مصافحہ کر کے اپنے رفقاء سمیت موٹروں پر بٹالہ کی طرف روانہ ہو گئے۔