اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 322 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 322

۳۲۲ بہت سے سفید رنگ کے پرندے پکڑے جو چھوٹے چھوٹے درختوں پر بیٹھے تھے۔خود حضرت خلیفتہ المسیح نے اس دعوت نامہ کے موصول ہونے سے پہلے کئی رویاؤں میں سفر یورپ کا نظارہ دیکھا۔چنانچہ آپ نے دیکھا کہ وزیر اعظم برطانیہ نے دہشت زدہ ہو کر کہا مجھے خبر آئی ہے کہ مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ کی فوجیں عیسائی لشکر کو دباتی چلی آرہی ہیں۔اور مسیحی لشکر شکست کھا رہا ہے۔اور یہ بھی دیکھا کہ آپ بطور اولوالعزم فاتح ، انگلستان میں وارد ہوئے ہیں۔سوحضور نے ایک اعلان میں فرمایا کہ ہماری جماعت کا کام ساری دنیا میں تبلیغ اسلام کرنا ہے جس کے لئے ایک مکمل نظام تجویز کرنے کیلئے ضروری ہے کہ جماعت احمدیہ کا خلیفہ مغربی ممالک کی حالت اور مشکلات کو وہاں جا کر دیکھے۔اس لئے میں نے باوجود بہت سی مشکلات کے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس سفر کو خود اختیار کروں مذہبی کا نفرس میں شمولیت کی غرض سے نہیں بلکہ مغربی ممالک میں تبلیغ کے لئے ایک مستقل سکیم تجویز کرنے کے لئے اور تفصیل سے وہاں کے حالات سے واقف ہونے کے لئے۔کیونکہ مغربی ممالک ہی اسلام کے راستہ میں ایک دیوار ہیں جس دیوار کا توڑنا ہما را مقدم فرض ہے۔حضور نے سفر کے دوران میں جماعت کے نام ایک مکتوب میں ایک زبر دست خطرہ کے بارے متنبہ کیا کہ مبادا یورپ اسلام کو تو قبول کرے۔لیکن اسلامی تمدن اپنانے سے انکار کر دے۔تب اسلام کی مسخ شدہ صورت پہلے یورپ میں اور پھر ساری دنیا میں قائم ہو جائے گی اور مسیحیت کی طرح اسلام بھی مسخ ہو جائے گا۔حضور نے اس مکتوب میں رقم فر مایا کہ ”ہمارا فرض ہے کہ اس مصیبت کے آنے سے پہلے اس کا علاج سوچیں۔اور یورپ کی تبلیغ کے لئے ہر قدم جو اٹھا ئیں اس کے متعلق پہلے غور کر لیں۔اور یہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہاں کے حالات کا عینی علم حاصل نہ ہو۔پس اسی وجہ سے باوجود صحت کی کمزوری کے میں نے اس سفر کو اختیار کیا ہے۔اے قوم ! میں ایک نذیر عیاں کی طرح تجھے متنبہ کرتا ہوں کہ اس مصیبت کو کبھی نہ بھولنا۔اسلام کی شکل کو کبھی نہ بدلنے دینا۔جس خدا نے مسیح موعود کو بھیجا ہے وہ ضرور کوئی راستہ نجات کا نکال دے گا۔پس کوشش نہ چھوڑ نا۔نہ چھوڑنا۔نہ چھوڑنا۔آہ! نہ چھوڑنا۔میں کس طرح تم کو یقین دلاؤں کہ اسلام کا ہر ایک حکم نا قابل تبدیل ہے۔خواہ چھوٹا ہو خواہ بڑا جو اس کو بدلتا ہے وہ اسلام کا دشمن ہے۔وہ اسلام کی تبدیلی کی بنیاد رکھتا ہے۔کاش وہ پیدا نہ ہوتا یورپ کے لئے تو اسلام کا قبول کرنا مقدر ہو چکا ہے۔ہمارا فرض یہ ہے