اصحاب احمد (جلد 9) — Page 17
۱۷ کیونکہ والد ڈ چکوٹ سے تین میل کے فاصلہ پر غالبا چک ۶۲ کے حلقہ میں تبدیل کر دیئے گئے۔یہ غالبا مئی ۱۸۹۵ء کی بات ہے اور آپ کو ملاقات کے لئے بلوالیا گیا۔خط و کتابت بند ہونے کے وقت سے آپ سوچتے تھے کہ کسی طرح ان پابندیوں سے آزاد ہوسکیں۔مدرسہ میں داخل کرنے کی تجویز بھی ٹھکرا دی جاتی۔اور ملازمت کی بھی اور کہا جاتا کہ ہمیں نوکریوں کی ضرورت نہیں۔ہم دوسروں کو نو کر رکھ سکتے ہیں۔وجہ یہ تھی کہ لائل پور کی بار نئی زمین بڑے بڑے زمیندار، پیداوار اور آمدنی کی کوئی انتہا نہ تھی۔نئے انتظام کی وجہ سے پٹواریوں کے اختیارات بہت وسیع تھے اور آمدنی کی بھی کوئی حد بست نہ تھی۔آپ اچھے کھلاڑی تھے اور ٹورنا منٹوں میں آپ نے بھاری انعامات حاصل کئے تھے۔آپ آسانی سے جمناسٹک ماسٹری حاصل کر سکتے تھے۔لیکن ان تمام امور کا جواب اس دفعہ بھی نفی میں دیا گیا۔ایک دوست کا خط اور جواب میں تائید الہی آپ بیان کرتے ہیں کہ چند روز بعد ۲۳ رمئی ۱۸۹۵ء کو سید بشیر حیدر صاحب کا خط گذشتہ مقام سے پتہ تبدیل ہو کر ہفتہ واری دورہ پر آنے والے ڈاکیہ کے ذریعہ والد کی غیر حاضری میں مجھے ملا۔سید بشیر حیدر صاحب کی خوبیوں کا گننا بھی میرے لئے مشکل ہے۔ان کو میرے ساتھ گویا فطری لگاؤ تھا اور ایسی پاک محبت تھی جس کی اس عمر کے نو جوانوں میں بہت کم نظیر ملتی ہے۔وہ سادات خاندان کے ایک شریف ڈاکٹر کے صاحبزادہ اور معزز گھرانے کے ممبر ہونے کے لحاظ سے چونیاں کی ممتاز ہستیوں میں شمار ہوتے تھے۔مگر باوجود اس کے ان کو مجھ سے ایسی محبت اور اتنا گہرا تعلق تھا کہ سکول میں ہمیشہ میرے پہلو بہ پہلو بیٹھتے یا کم از کم یہ کوشش ضرور کرتے کہ میرے بینچ پر بیٹھیں۔وہ تعلیم میں ہوشیار اور لائق تھے اور میں بعض مضامین میں کمزور تھا۔میری خاطر مجھے سکول کے مضامین کی تیاری کرانے کی غرض سے میرے گھر یا میری بیٹھک پر تشریف لاتے اور اپنا قیمتی وقت میرے لئے قربان کیا کرتے تھے۔باوجود ان باتوں کے وہ ہمیشہ میرا ادب و احترام بھی کرتے اور مجھ سے بہت حیا کرتے تھے۔اور وہاں تو ان کی بجائے میں ان کو تبلیغ کرتا تھا۔مگر جدائی کے بعد انہوں نے روحانی رنگ میں میری بہت مدد کی۔اور میرے اظہار اسلام میں ان کا بہت بڑا حصہ اور دخل تھا۔فجزاہ اللہ تعالیٰ۔اس خوف سے کہ مبادا والد صاحب آجائیں میں علیحدگی میں گھنے سایہ دار درختوں