اصحاب احمد (جلد 9) — Page 290
۲۹۰ تھیں۔سب سے مصافحہ کر کے حضور تانگہ پر سوار ہو گئے۔آپ کے ساتھ حرم محترم کے علاوہ حضرت مرزا شریف احمد صاحب ، محترم میاں عبدالسلام صاحب ابن حضرت خلیفتہ اسیح الاول محترم ماسٹر عبدالرحیم صاحب نیر ، محترم شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی اور محترم مولوی عطا محمد صاحب اور محترم نیک محمد خاں صاحب ( غزنوی ) وغیرہ تھے۔بٹالہ سے (ٹرین پر ) سوار ہو کر قافلہ امرتسر پہنچا۔جہاں پچاس کے قریب احمدی احباب اسٹیشن پر آئے۔کھانے کے بعد اسٹیشن کے برآمدہ میں ظہر و عصر کی نمازیں ادا کی گئیں۔چند بیعتیں ہوئیں۔لاہور سے محترم چوہدری ظفر اللہ خاں اور محترم با بو عبد الحمید صاحب نے آکر ملاقات کی۔بٹالہ اور امرتسر کے درمیان سیکنڈ کلاس کے ڈبہ کے خراب پنکھے کو حضرت مرزا شریف احمد صاحب ٹھیک کرنے لگے تو ایک دوست نے کہا کہ جانے دیجئے۔ہم نے تو ابھی امرتسر میں اتر جانا ہے۔لیکن حضور نے فرمایا کہ مومن ہمیشہ وہ کام کرتا ہے جس سے مخلوق خدا کا فائدہ ہو۔پنکھا ہمارا نہیں۔کسی اور کے کام آجائے گا۔امرتسر کے میاں غلام رسول صاحب حجام اونچے اونچے اپنے مخصوص لہجے میں باتیں کر رہے تھے۔انہیں امرتسر کی جماعت نے روکنا چاہا۔تو حضور نے روکنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ انہیں مجھ سے باتیں کرنے دو۔ہاں ! میاں غلام رسول! آپ سنائیں۔میں سنتا ہوں۔رات بھر جا کر حضور نے راستہ کی جماعتوں سے ملاقاتیں کیں تاکہ ان کی دل شکنی نہ ہو۔جالندھر اسٹیشن پر کپورتھلہ کی جماعت اور پھگواڑہ اسٹیشن پر حاجی پور کے مخلصین۔پھلورا اور لدھیانہ پر وہاں کے احباب اور راجپورہ پر پٹیالہ اور سنور کی جماعتیں موجود تھیں۔پٹیالہ وسنور کے دوست انبالہ تک ساتھ گئے اور کا لکا کی ٹرین میں سوار کرا کے واپس گئے۔شملہ اسٹیشن پر وہاں کی جماعت موجود تھی۔ایک روز جماعت شملہ کی حاضر خدمت ہونے کی خواہش تھی۔اس لئے حضور سیر کو نہیں گئے۔ایک غیر احمدی اور ایک غیر مبائع حاضر مجلس تھے۔احباب کی خواہش تھی کہ ” صادقوں کے معیار پر حضور تقریر فرمائیں۔سوحضور نے پونے دو گھنٹے اس موضوع پر تقریر فرمائی۔ایک روز حضور نے جماعت شملہ کا ایڈریس سنا۔حالانکہ حضور ایک روز پہلے سے بیمار تھے۔ایڈریس محترم بابو برکت علی صاحب سیکرٹری جماعت نے پڑھا۔جس میں ذکر تھا کہ جماعت شملہ غیر مبایع عنصر سے پاک ہوگئی ہے اور صرف مخلصین کی خالص جماعت باقی رہ گئی ہے۔حضور نے اپنی جوابی تقریر میں بتایا