اصحاب احمد (جلد 9) — Page 288
۲۸۸ ختم ہونے میں نہ آویں گی۔“ (صفحہ ۳۱،۳۰) دوستو ! اس چالیس بیالیس سالہ عرصہ میں میں نے کبھی کسی مجمع میں تقریر نہیں کی اور نہ میں کبھی سٹیج پر کھڑا ہوا۔مگر مسٹر کے فیصلہ نے جو اصل وجہ ہے موجودہ فتن کی مجھے مجبور کر دیا کہ میں اپنے در ددل کا اظہار کر دوں۔“ (صفحہ ۳۲) حضرت بھائی جی کی طرف سے ایک کتابچہ اس بارے میں شائع ہوا تھا جس کے اقتباسات اوپر دیئے گئے ہیں۔یہ سیشن جج بعد تقسیم ملک چیف جسٹس بنا۔لیکن ریٹائر منٹ پر اس کی ذلت کا سامان ہوا۔الوداعی تقریب باوجود انتظام ہو جانے کئے اس کے ایک انٹرویو کے باعث منسوخ ہوئی۔اور پھر ماتحت عدالت میں ا پر مقدمہ ایک ڈ پی ایڈوکیٹ جنرل ی طرف سے دائر ہوا۔تفصیل کےلئے دیکھے احب احد جلد یاز دہم) حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے سفروں میں رفاقت حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی ان خوش قسمت احباب میں سے ہیں جن کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے اندرون و بیرون ملک کے سفروں میں ساتھ جانے اور خدمت بجالانے کے مواقع حاصل ہوئے۔جن سفروں کا علم ہو سکا ہے ان کا بیان مختصر کوائف کے ساتھ کیا گیا ہے۔کوائف سے ان کی قابل رشک خوش بختی اجاگر ہوتی ہے۔ا۔شملہ سر ہند ،سنور اور پٹیالہ کا سفر (۱۹۱۷ء میں ) -1 حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے بحالی صحت کے لئے شملہ تشریف لے جانا تھا۔آپ نے ایک روز پہلے ۲۹ را گست ۱۹۱۷ء کو بعد از نماز مغرب احباب کو فتنہ فساد سے بچنے اور اتحاد کے بارے تلقین کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام کے دور اول میں مسلمانوں نے اتحاد سے اور اتباع احکام سے متمدن اقوام کے مقابل کامیابی اور غلبہ حاصل کیا۔نیز فرمایا کہ میں تبدیلی آب و ہوا کے لئے باہر جارہا ہوں۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق کہ باہر تشریف لے جاتے تو ایک نماز کا اور ایک انتظامی امور کا امیر مقرر فرماتے۔مسجد مبارک کی امامت کے لئے جس کے متعلق خاص الہامات ہیں میں (حضرت) قاضی سیدامیرحسین صاحب کو اور مقامی امور