اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 287 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 287

۲۸۷ عزیز واقارب، اپنے رشتہ دار، اپنا مذ ہب ، اپنا وطن چھوڑ دیا۔میں نے اس سے بڑھ کر اس زمانے میں کسی کو راستباز نہ پایا۔اس سے بڑھ کر کوئی خاکسار نہ دیکھا اور اس سے بڑھ کر کوئی حلیم نہ پایا اور نہ اس سے بڑھ کر دنیا سے کسی کو بیزار دیکھا۔اور میں اس امر کا اعلان کر دینا چاہتا ہوں کہ جو شخص ہمارے مقدس امام کو، شاہزادہ امن کو جس پر ہم جان و دل سے فدا ہیں جو جان جہان ہے اور جس کے لئے ہم اپنی اولادوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے ٹکڑے کروا دینا منظور کر سکتے ہیں مگر اس کی شان میں ناروا نازیبا الفاظ برداشت نہیں کر سکتے۔جوان کے خلاف بدتہذیبی کے الفاظ استعمال کرے گا۔ہم اس کے لئے بد تر الفاظ نہیں تو ویسے الفاظ ضرور استعمال کریں گے۔ہم عیاش کہنے والے کو عیاش کہیں گے خواہ وہ کوئی ہی کیوں نہ ہو۔اور وقت آنے پر ہم ان عیاشیوں اور رنگین مزاجیوں کو طشت از بام کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔۔ہم بالکل اسی پیمانہ سے ہر انسان کو تو لیں گے جس پیمانہ سے اس زمانہ کے راستباز کوکوئی تولنے کی سعی کرے گا۔(صفحہ ۱۱،۱۰) میں بچہ تھا جب خدا مجھے قادیان میں لایا۔اب ساٹھ سالہ بڑھا ہوں۔۱۸۹۵ء سے ان ایام تک مجھے بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور حضور کے خاندان کی غلامی کا شرف حاصل ہے۔اسی پر میں پلا پوسا۔جوان ہوا اور اب بڑھا ہوں۔بوجہ پچپن کے عموما اندرون خانہ بھی خدمات کا موقعہ ملا۔مجلسی حالات کا بھی مشاہدہ و مطالعہ کرنے کی عزت ملی اور سفروں میں بھی شرف رفاقت و ہمر کا بی نصیب ہوا۔دوستو ! ۱۸۹۵ء سے سید نا حضرت اقدس کے وصال تک بلکہ عین آخری گھڑیوں میں بھی مجھے یہ عزت ملی کہ حضور نے اس غلام کو یا د فرمایا۔خاندان کے مقدسین کی شفقت بھی ہمیشہ مجھ پر رہی۔ایسا مقدس اور پاکباز انسان حضور پر نور کے بعد میں نے نہیں دیکھا۔حضور کے اخلاق فاضلہ اور اوصاف حمیدہ کی تشریح و تفصیل کسی مضخیم کتاب کو چاہتی ہے۔باپ سے زیادہ شفیق اور ماں سے زیادہ مہربان۔ایک دو یا چند گنا نہیں بلکہ لاکھوں گنا زیادہ۔رحم کے لحاظ سے سید الاولین والآخرین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلق کا نمونہ اور حلم کے لحاظ سے ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مثال۔۔۔۔وہ کامل انسان خدا نہ تھا مگر خدا نما ضر ور تھا۔اس کی مجلس خدا نما اور صحبت روح پرور تھی۔کتنا ہی رنج و غم میں ڈوبا ہوا انسان جب اس کی مجلس میں پہنچایا اس کے چہرہ مبارک کو دیکھ پاتا۔سارے غم غلط ہو جاتے اور دنیا وما فیہا کو بھول کر آستانہ الوہیت کی طرف کھنے لگتا تھا۔ہفتے مہینے اور سال بھی تمام ہو جائیں۔مگر اس ہمارے یوسف کے حسن و جمال کی باتیں