اصحاب احمد (جلد 9) — Page 283
۲۸۳ جنازوں کو لے جاتے وقت شرارت کی گئی۔اس سال حضور نے شملہ تشریف لے جا کر ان مقاصد سے چوٹی کے ہندو مسلم لیڈروں سے تبادلہ خیال کیا اور حضور کی تحریک پر مسٹر محمد علی جناح ( جو اس وقت کانگرس کے ممبر تھے ) مولانا شوکت علی۔مولانا محمد علی جوہر۔سر عبد القیوم خاں۔پنڈت مدن موہن مالویہ۔ڈاکٹر مونجے۔لالہ لاجپت رائے اور سری نواس آئنگر کے اجلاس ہوئے اور مسلمانوں کو وہاں بھی اور اس سے پہلے لاہور میں بھی حضور نے بلا تمیز فرقہ اتحاد پیدا کرنے کی تلقین فرمائی۔مذکورہ حملہ کے بعد ہندو مسلم فسادات برپا ہوئے۔جس میں مشہور صحافی مولا نا عبدالمجید سالک کے بیان کے مطابق دو تین دن میں ہی کوئی دوسو افراد ہلاک اور تین سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔جس پر حضور نے فوراً مولانا محمد علی صاحب ومولانا شوکت علی برادران کے برادر اکبر مولانا ذوالفقار علی خاں صاحب ناظر اعلی، مفتی محمد صادق صاحب ناظرا مور عامہ کو قیام امن خدمت خلق اور امداد مظلومین کی غرض سے اور مولوی فضل الدین صاحب وکیل کو مسلمانوں کی قانونی امداد کے لئے لاہور بھجوایا۔حضرت خان صاحب اور حضرت مفتی صاحب نے مقتولین ان کے پسماندگان اور زخمیوں کے بارے معلومات حاصل کرنے کے لئے مسجد احمد یہ لاہور میں شعبہ اطلاعات قائم کیا۔یہ دفتر روزانہ پندرہ گھنٹے کھلا رہتا تھا۔فوری امداد بھی کی گئی۔اور کوتوالی جا کر زیر حراست مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کی اور ان کے اقارب کو تسلی دی۔احمدی ڈاکٹروں کے ذریعہ ہسپتال میں زخمیوں کی دیکھ بھال کی۔حضور نے ایک پوسٹر ” فسادات لاہور پر تبصرہ ، رقم فرمایا۔جس کی کتابت رات اڑھائی بجے مکمل ہوئی۔حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب کو حضور نے ہدایات دیں۔وہ صبح نو بجے روانہ ہو کر اسے چھپوا کر شام کو لاہور پہنچے اور اسے تقسیم کیا اور چسپاں کیا حضور کی تقلید میں مسلم ریلیف کمیٹی اور ہندو اور سکھوں کی طرف سے بھی پوسٹر لگائے گئے جن سے مشتعل طبائع میں سکون پیدا ہوا۔حکام ضلع پر حالات واضح کئے گئے۔مسلم ریلیف کمیٹی نے چاہا کہ اسے مفصل کو ائف مہیا کئے جائیں سو اس کام کے لئے برکت علی ہال میں دفتر قائم کیا گیا۔ان چاروں بزرگوں نے کئی ماہ تک لاہور کے مسلمانوں کی خدمت کی۔و تحفظ ناموس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم -1 ایک احمدی بزرگ حضرت سید دلاور شاہ صاحب ایڈیٹر انگریزی پر چہ مسلم آؤٹ لک لاہور نے اپنے اس اخبار میں اس حج لاہور ہائی کورٹ پر شدید تنقید کی اور اسے مستعفی ہونے کے لئے کہا کہ جس