اصحاب احمد (جلد 9) — Page 252
۲۵۲ میں بھی چشم دید گواہ ہوں۔مفصل پھر انشاء اللہ -۲ مجوزہ بالا صحیح کے بعد ذیل کا مضمون حضرت بھائی جی نے مفصل تحریر فرمایا: صاحب موصوف ۲۱ مارچ ۱۹۰۸ء کو گیارہ بجے قبل دو پہر کے قریب اپنے کیمپ میں پہنچے جو تعلیم الاسلام ہائی سکول کے لئے خرید کردہ اراضی کے وسیع میدان میں لگایا اور سجایا گیا تھا۔اس کام کی تکمیل، ترتیب اور خوبی کا سہرا ہمارے محترم بزرگ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر الحکم کے سر رہا۔جن کو سلسلہ کی طرف سے اس خدمت پر مامور کیا گیا تھا۔خیمہ گاہ کے جنوبی سرے پر ایک خوبصورت دروازہ کھڑا کیا گیا تھا اور اس پر خوش آمدید۔ویلکم۔لکھا گیا۔یہ وہ مقام ہے جہاں ان دنوں حضرت مولانا مولوی شیر علی صاحب کا مکان واقع ہے۔خیمے۔سٹرکیں اور روشیں شمال کی جانب دور پرے نور ہسپتال کی جگہ تک بلکہ اس سے بھی کچھ اور آگے تک پھیلی ہوئی تھیں۔” صاحب بہادر کے استقبال کے لئے سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی خاندانی - روایات و طریق پر اپنے بڑے صاحبزادے سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ایدہ اللہ کو بھیجا۔جن کے ہم رکاب جناب خواجہ کمال الدین صاحب سیکرٹری صدرانجمن احمد یہ اور خواجہ جمال الدین صاحب گھوڑوں پر سوار ہو کر قادیان کی حدود تک جانب مشرق گئے۔اور صاحب بہادر کو اپنے ساتھ لے کر دار الفتوح کے کھلے اور وسیع میدان میں پہنچے جو اس زمانے میں ریتی چھلہ کہلاتا اور بالکل کھلا پڑا تھا۔جہاں تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کے طلباء اپنے اساتذہ اور ہیڈ ماسٹر حضرت مولوی شیر علی صاحب بی۔اے کی زیر نگرانی ایک نظام و ترتیب کے ساتھ قطاروں میں اپنا جھنڈا تھا مے اور عوام اور پبلک ایک بے ترتیب ہجوم کی صورت میں جمع تھے۔”جناب بہادر نے ہیڈ ماسٹر صاحب تعلیم الاسلام ہائی سکول سے سکول کے متعلق بعض امور دریافت فرمائے۔پھر طلباء کا سلام لیتے ہوئے قطاروں میں سے خوشی و بشاشت سے گزرتے ہوئے دروازہ میں داخل ہوئے اور خیمہ کے قریب کے تیار شدہ خوبصورت چبوترہ پر پہنچے۔جہاں سلسلہ عالیہ احمدیہ کے معززین اور شرفاء مقامی اور بیرونی جماعتوں کے نمائندگان نے آپ کا استقبال کیا۔اس موقعہ پر جناب مولوی محمد علی صاحب ایم اے ایڈیٹر ریویو آف ریچز نے تمام دوستوں کا نام بنام تعارف کرایا۔جو کم و بیش ساٹھ اصحاب تھے۔اس تعارف کے بعد سیکر ٹری صاحب صدر انجمن احمدیہ نے سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ والسلام کی طرف سے صاحب بہادر کو پیغام دعوت دیا۔