اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 199 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 199

۱۹۹ دالان میں کیچ کا پلستر ہوا تو کمرہ زیادہ ٹھنڈا ہو گیا۔ایک رات کا ذکر ہے کہ سردی کی شدت کے باعث مجھے رات بھر نیند نہ آئی۔کروٹ لے لے کر یا بیٹھے رات گزاری۔پچھلا پہر تھا۔کوئی دو بجے کا وقت ہو گا۔جب تھک کر میں لیٹ گیا۔ابھی چند ہی منٹ ہوئے کہ کھڑ کی کھلی اور سید نا حضرت اقدس دالان میں داخل ہوئے۔مگر میں خلاف معمول کھڑا ہو کر سلام عرض کرنے کے بجائے سکڑا چار پائی پر پڑا رہا۔پہلے عموماً میں کھڑ کی کھلنے کی آہٹ پاتے ہوشیار ہو کر اٹھ کھڑا ہوا کرتا تھا۔آج غیر معمولی کوتا ہی کی وجہ سے حضور کو توجہ ہوئی۔اور آپ نے میری چارپائی کے قریب ہو کر مجھے غور سے دیکھا اور آہستگی سے اپنی پوستین جو میری چار پائی کے اوپر کھونٹی پر لٹک رہی تھی اتار کر میرے اوپر ڈال دی۔میں مگن پڑا رہا۔ہلا جلا نہ بولا۔حضور تشریف لے گئے۔میں گرم ہوتے ہی گہری نیند سو گیا اور پھر صبح کی اذان ہی سے جا گا۔وضو کیا اور نماز کے لئے مسجد کو جانے کے لئے تیار تھا کہ حضرت اقدس صبح کی نماز کے واسطے اسی کھڑکی سے تشریف لے آئے۔میں نے سلام عرض کیا۔حضور مسکراتے ہوئے میری طرف بڑھے اور فرمایا۔میاں عبدالرحمن آپ نے تکلف کر کے تکلیف اٹھائی۔بستر کم تھا تو کیوں ہمیں اطلاع نہ دی ؟ شرط موت کی لگانا اور رنگ اجنبیت کا دکھا نا ٹھیک نہیں۔دو چار روز کی بات ہو تو اجنبیت انسان نباہ سکتا ہے۔مگر عمر کی بازی لگا کر تکلف واجنبیت میں پڑے رہنا باعث تکلیف ہوتا ہے۔جب آپ نے گھر بار چھوڑا۔ماں باپ چھوڑے وطن اور قبیلہ چھوڑ کر ہمارے پاس آگئے تو آپ کی ضروریات ہمارے ذمہ ہیں مگر جب تک ہمیں اطلاع نہ ہو ہم معذور ہیں۔کیا کر سکتے ہیں (مفہوم بالفاظ راقم ) میں نے ندامت سے گردن ڈال دی۔سر جھکا لیا اور مجسم صورت سوال ہی بن کر رہ گیا۔صبح کی نماز کے بعد سلام پھیرتے ہی حضرت نے حافظ حاجی حکیم فضل الدین صاحب مرحوم کو یاد فرمایا۔وہ حاضر ہوئے حکم دیا کہ میاں عبدالرحمن کے پاس بستر نہیں۔ان کو آج ہی بستر تیار کرا دیں۔ان کو ساتھ لے جائیں جیسا پسند کریں ویسا ہی بنوادیں۔معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پاس پہننے کے کپڑے بھی کم ہیں۔ایک دو جوڑے بھی حسب ضرورت بنوا دیں۔حکم کا ملنا تھا کہ حضرت حکیم صاحب نے مجھے بازو سے پکڑ لیا اور ساتھ ساتھ لئے پھرے۔موسم سرما کی وجہ سے دکان کے کھلنے میں دیر تھی، خاص آدمی بھیج کر لالہ سکھ رام کو بلوایا۔دکان کھلوائی اور لگے مجھے کپڑے پسند کرانے۔عمر بھر میں میرے لئے یہ پہلا موقع تھا کہ پوستن والا یہ واقعہ اختصار سے بھائی جی کی تقریر ” ذکر حبیب“ مندرجہ بدرجلد ۵ نمبر ۱۲ بابت ۲۸ / مارچ ۱۹۵۶ء صفحہ ۵ کالم ۲ میں بھی درج ہے۔