اصحاب احمد (جلد 9) — Page 198
۱۹۸ میں اکثر ہم لوگ محسوس کیا کرتے تھے کہ حضور پر نوررات کا زیادہ حصہ ذکر وفکر اور دعا ونماز میں گذارا کرتے تھے۔کیونکہ بالکل تھوڑے سے وقت کے سواعمو م ہمارے کانوں میں گریہ و بکا اور اضطراب والحاح کی آواز کبھی کچھ پڑھنے اور گنگنانے کی گنگناہٹ۔کبھی نرم اور دھیمی سی آواز میں سکیاں لینے اور رقت وسوز سے بلبلانے کی آواز پڑتی رہا کرتی تھی اور بارہا مجھے یاد ہے کہ ایسے موقعہ پر ہم خود بھی کھڑے آمین آمین از ما و جملہ جہاں آمین باؤ کی صدائیں کرنے لگتے۔پہرہ کا ایک دوسرا طریق جو مکانات کی تکمیل کے بعد جاری ہوا یہ تھا کہ حضور پر نور نے ہمیں اپنے مکانات کے بعض حصوں میں سورہنے کا ارشاد فرمایا۔جہاں محترم حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب اور یہ خاکسار اول اول دونوں ایک ہی جگہ عشاء کی نماز کے بعد جاتے اور صبح کی نماز کے وقت وہاں سے آ جایا کرتے۔بعد میں دونوں کو الگ الگ حصوں میں بھی رہ کر خدمت پہرہ کا موقعہ ملتا رہا۔اور یہ تبدیلیاں مکانات کی شکست وریخت اور ترمیم و تنسیخ کی بنا پر ہوا کرتی تھیں۔اور حسب ضرورت ہم لوگ مختلف حصص مکانوں میں راتوں کو کچھ جاگ کر اور زیادہ سو کر ڈیوٹی دیتے رہے۔پہرہ کا یہ سلسلہ کم وبیش دو تین سال متواتر جاری رہا۔اور مختلف دوست اس خدمت کی سعادت پاتے رہے۔میرے اس پہرہ کا آخری زمانہ وہ تھا جبکہ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے رہائشی دالان کی مرمت صفائی اور پلستروں کا کام جاری ہوا۔یہی وہ دالان ہے جو بیت الفکر کے شمالی جانب دیوار بد یوار واقع ہے۔اور جس کے اندر بیت الدعاء کا دروازہ کھلتا ہے بیت الدعاء دراصل اس دالان سے جانب غرب کوچہ کی طرف بڑھا کر بعد میں بنایا گیا ہے مرمت وغیرہ کی وجہ سے حضور اس دالان کو خالی کر کے نچلے حصہ میں تشریف لے گئے جس کے لئے اسی دالان کی شمالی دیوار میں سے سیڑھی کھلی تھی۔اور نیچے کا یہ حصہ وہ کوٹھڑیاں اور دالان میں جوسید نا امیر المومنین حضرت اقدس خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے حرم اول کے موجودہ مکان کے صحن کے نیچے واقع ہیں (۱۹۳۹ء) میں۔اس دالان میں لمبے عرصہ تک سوتا رہا۔حضور نمازوں کے واسطے نیچے سے اوپر پہلے اسی دالان میں تشریف لاتے اور بیت الفکر میں سے ہو کر بیت الذکر یعنی مسجد مبارک میں تشریف لے جایا کرتے تھے۔سردی کا موسم تھا اور بستر میر اہلکا۔اول اول تو گذر ہو جاتی رہی مگر جب سردی بڑھ گئی۔دوسری طرف بھائی جی نے ہی مضمون میں (۱۹۳۹ء ) اس طرح خطوط وحدانی میں دیا ہے۔گویا ۱۹۳۹ء بوقت تحریر مضمون یہ صورت حال ہے۔