اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 6 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 6

۶ وحدت پرستی کا فطری نور غالب آ گیا۔اور آپ قید بت خانہ و بتاں سے نجات پا کر خدائے واحد دیگا نہ کا آزاد بندہ بننے لگے۔آپ کے دل کی کھیتی میں حُبّ اسلام کا پہلا پاک اور مقدس تخم اسی قیمتی کتاب کے مطالعہ سے بویا گیا جس کے مصنف نے نہ معلوم کس پاک نیت اور نیک ارادے سے اس کتاب میں نور اور ظلمت کو ایسے رنگ میں یکجا جمع کر دیا۔کہ فطرت سلیم اس سے متاثر ہوئے بغیر رہ ہی نہیں سکتی۔آپ بیان کرتے ہیں کہ قابل اور نیک دل مصنف نے بغیر اشارہ کسی اور بغیر کسی ایک بھی تبلیغی فقرہ لکھنے کے ابتداء میں ہندوؤں کے مذہبی رسوم ورواج ، ان کے اکابر کے بعض حالات اور معاشرتی آئین درج کر دیئے ہیں اپنی طرف سے نہ کوئی جرح کی ہے نہ تنقید۔دوسرے حصہ میں مسلمانوں کے عقائد۔رسوم و رواج اور انبیاء کے حالات درج کر کے آخر میں صرف ایک سبق آموز افسانہ لکھ دیا ہے اور بس۔طرز تحریر بالکل غیر جانبدارانہ ہے اور کتاب کو ٹیکسٹ بک (نصاب تعلیم مروجہ وقت ) بنا کر اس کے واقعات مندرجہ کی صحت کی تصدیق دونوں قوموں کے نمائندوں نے کر دی تھی۔کتاب کیا تھی ایک شفاف آئینہ تھا جس میں نور اور ظلمت دونوں کا فوٹو ہو بہو ( اس زمانہ کے خیالات اور تحقیق کے مطابق ) یکجا جمع تھا اور ہر فطرت اپنی استعداد و قابلیت اور مناسبت کے لحاظ سے اپنے ہم جنس کی طرف جھک جانے پر مجبور تھی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایک زمانہ تک سینکڑوں ہی نیک فطرت انسانوں کی ہدایت و راہنمائی کی عزت اس کتاب کو بخشی۔مگر آخر کار متعصب اور مالدار سرکاری اداروں پر قابو یافتہ ہندوؤں کی کوشش کا شکار ہو کر نصاب تعلیم سے خارج کر دی گئی انالله وانا اليه راجعون عیسائیوں اور آریوں کی سرگرمیاں حضرت بھائی جی بیان کرتے ہیں کہ میرے خیالات کا یہ انقلاب ۱۸۸۹ء ،۱۸۹۰ ء یا زیادہ سے زیادہ ۱۸۹۱ء سے تعلق رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ اسی زمانہ میں چونیاں پر عیسائی مشنریوں نے دھاوا بول رکھا تھا اور ان کے مناد نئے نئے رنگ میں لوگوں کا متاع ایمان چھین لینے اور ان کے مذہبی عقائد پر ڈاکہ ڈالنے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے۔کبھی تو وہ اپنے خاص انداز اور شان وشوکت کی نمائش کرتے۔کبھی بچوں اور نو جوانوں کے دل موہ لینے کے وسائل اختیار کرتے اور کبھی کبھی نہایت ہی خوبصورت اشیاء کی تقسیم عام کے ذریعہ سے لوگوں کو اپنی طرف مائل کیا کرتے اور تما شا اور تصاویر دکھا کر نوجوانوں کے دل لبھانے اور طمع دے کر پھانسنے تک سے بھی دریغ نہ کیا کرتے۔دوسری طرف ہندو قوم