اصحاب احمد (جلد 9) — Page 7
چونکہ بڑی ہوشیار اور موقعہ شناس واقع ہوئی ہے اس نے جب عیسائیوں کی سرگرمیوں کو دیکھا تو اپنی نئی پود کو سنبھالنے کی کوشش و فکر میں لگ گئی اور آریوں نے نت نئے جلسے جلوس اور نگر کیرتن کے رنگ جمانے شروع کر دیئے۔ان کے بڑے بڑے اپریشک آتے، لیکچر ہوتے اور بحث ومباحثے کے اکھاڑے اکثر لگتے رہتے۔اس طرح ہندوؤں نے تو اپنی عقلمندی سے اپنے نو جوانوں کا رخ پلٹ دیا۔اور جو رنگ عیسائی منا د اختیار کرتے ہندو بھی اس سے پیچھے نہ رہتے۔گانے بجانے میں تو استریوں کی شرکت کی وجہ سے آریوں کے اکھاڑے عیسائیوں سے بھی زیادہ بارونق ہو جایا کرتے۔باقی رہ گئے بیچارے مسلمان جو بے سری فوج یا بغیر دولہا کے برات تھے، منتشر اور بکھری ہوئی بھیڑوں کی طرح ان کو جو چاہتا اچک لیتا تھا۔نہ کوئی نگران تھا نہ پاسبان۔بعض خاندانی لوگ عیسائیت کا شکار ہو گئے۔اور بعض آر یہ خیالات کی وجہ سے دہر یہ بن گئے۔غرض وہ زمانہ بھی عجیب کشمکش کا زمانہ تھا۔اور چونیاں کا شہر ریلوے سے دور ہونے کی وجہ سے عیسائیوں اور آریوں کا ایک شکارگاہ بن رہا تھا۔اور عام حالات کے لحاظ سے کہا جا سکتا تھا کہ دونوں کا حملہ اسلام کے خلاف تھا۔اس زمانہ میں قلبی کیفیت آپ بیان کرتے ہیں کہ میرے قلب کی بھی عجیب کیفیت تھی اسلام کی محبت میرے دل میں گھر کر چکی تھی اور حلاوت ایمانی میرے رگ و پے میں سرایت کر گئی تھی۔مذہب اور خدا کا خیال میرے دل میں نمایاں جگہ لے چکا تھا۔اس لئے میں عیسائیوں کے لیکچروں میں بھی چلا جاتا اور آریوں کے جلسوں اور جلوسوں میں بھی شریک ہو جایا کرتا تھا کیونکہ عیسائی خداوند خدا کے نام پر بلاتے اور آریہ بت پرستی کے خلاف اور توحید کی تائید میں گیت گاتے اور پکار پکار کر ایشور پر ما تھا اور سرب شکتی مان کے نام پر بلاتے تھے۔میں خیالات کے لحاظ سے ایک طرف سے تو بالکل کٹ چکا تھا اور نیا پیوند میرا ابھی بالکل تازہ تھا۔گو قلبی کیفیت کے لحاظ سے مجھے اطمینان اور تسلی تھی کہ اسلام ہی ( جسے میں ابھی تک صرف نام کے لحاظ سے ہی جانتا تھا اور اس کی تفاصیل سے نا واقف تھا ) سچا مذہب ہے۔اور یہ بات میں نہیں سمجھتا کہ کیونکر میرے دل میں میخ فولاد کی مانند گڑ گئی تھی۔مگر تا ہم میں آریوں اور عیسائیوں کی مجالس میں شریک ہوتا کہ شاید وہ چیز جس کی مجھے تلاش ہے انہی کے ہاں سے ملے۔مگر میں سچ سچ کہتا ہوں کہ مجھے کبھی ایک لمحہ کے واسطے بھی ان دونوں خیالات کے بڑے سے بڑے لیکچراروں کے عالمانہ خطبے اور لیکچر سن کر اس چیز کی صداقت میں شک و شبہ نہ پیدا ہوا جس کو خدا نے اپنے فضل سے خود اپنے ہاتھوں میرے دل میں گاڑ دیا