اصحاب احمد (جلد 9) — Page 181
IMI جرح قدح کے بوجھ کی وجہ سے تشویش میں تھے۔اور کچھ کرسی نشینی کے معاملہ کا شوق گلے کا ہار گلو گیر بن رہا تھا۔گھبراہٹ میں باہر آئے۔آس پاس نظر دوڑائی۔کرسی وغیرہ کوئی نہ پائی۔جھلا کر اردلی سے بولے: کوئی کرسی لاؤ مگر اردلی نے عذر کیا کہ کرسی خالی کوئی نہیں۔ناچار مولانا نے ایک آدمی کا کپڑا لیا اور فرش پر دھرنا مار کر بیٹھ گئے۔مگر وائے شومئی قسمت کہ جس کا کپڑا لے کر بیٹھے تھے اس کو کسی دوسرے نے یہ کہہ کر غیرت دلائی کہ: تم پادریوں کے ایسے گواہ کو اپنا کپڑا دیتے ہو جسے صاحب نے بھی جھڑ کیاں دے کر سیدھا کر دیا۔اور ترلے کرنے کے باوجودا سے کرسی نہ دی۔عیسائی اور ار د لی ہی تم سے اچھے رہے۔وہ شخص چونکہ بعد میں آیا تھا اس وجہ سے اس بیچارے کو ان باتوں کا علم نہ تھا اس کی بات اس کے دل کو لگی۔اور دوڑ کر مولوی صاحب کی طرف جھپٹا۔اپنی چادر ان کے نیچے سے کھینچ کر بولا۔”مولوی صاحب میں اپنا کپڑا پلید نہیں کرانا چاہتا۔یہ چھوڑ دو۔“ یہ سعید الفطرت غیرت مند شخص میاں محمد بخش نام برا در خور دمیاں محمد اکبر صاحب مرحوم ٹھیکیدار بٹالوی تھے جن کو آخر اللہ تعالیٰ نے نور ہدایت سے منور کیا اور دولت ایمان عطا فرمائی۔مولانا کھسیانے ہوئے اور اس کا کپڑا چھوڑ کر کھڑے ہو گئے۔اور ادھر ادھر ٹہلنے لگے۔یہ واقعہ جہاں میرا چشم دید ہے۔وہاں اور بھی کثرت سے اور دوستوں اپنوں اور بیگانوں کا بھی آنکھوں دیکھا سچا اور بالکل ٹھیک و صحیح واقعہ ہے۔اس کے بعد مولا نا ٹہلتے ٹہلتے بنگلہ کی شرقی جانب جا نکلے جدھر کپتان پولیس کا ڈیرہ نصب تھا۔کوئی خالی کرسی دیکھ کر بے اختیار لیکے۔اور اس پر جابرا ہے۔مگر ان کی بدقسمتی کہ کسی پولیس افسر نے دیکھ لیا۔اور فوراً ہی سپاہی کو بھیج کر یہ کہتے ہوئے کرسی خالی کرالی کہ :۔صاحب ضلع نے کرسی نہیں دی تو ہم کیوں دیں۔صاحب بہادر دیکھ لیں تو ہمارے سر ہو جائیں۔“ الغرض یہ ایک ہی دن میں ایک ہی مقام پر اور ایک ہی معاملہ میں ہم نے اللہ تعالیٰ کی غیرت و گرفت کے مظاہرے اس کی قدرت و تصرف کے نمونے اور اس کے علم واقتدار کے زندہ و تازہ نشان اپنی آنکھوں دیکھے کانوں سنے اور بر سر عام دیکھے سنے۔وہ جس کے علم وفضل کا شہرہ ، اثر ورسوخ کا چرچا اور رعب و داب کا غلغلہ و دھاک بندھی ہوتی تھی۔وہ جو گھر سے نکلتا تو معتقدین اور نیاز مندوں کے جھنڈ اس کے گرد جمع رہتے ، چلتا تو آگے پیچھے اور دائیں بائیں عقیدت کیشوں کا ہجوم وحلقہ بنارہتا۔لوگ مکانوں اور دکانوں پر کھڑے ہو ہو کر سلام و آداب بجالایا کرتے۔راہر و احترام کے خیال سے راستہ چھوڑ دیا کرتے۔آج