اصحاب احمد (جلد 9) — Page 180
۱۸۰ موقعہ نکالا۔اور باہر آ کر سارا واقعہ سنا گیا۔جس پر ہم لوگوں نے جہاں سجدات شکر اور کلمات حمد کے گیت گائے وہاں بعض حاضرین بھی ہم ہم آہنگ بن گئے۔اور ہماری ذلت۔۔۔دیکھنے کو جمع ہونے والوں کے دل خدا نے کچھ ایسے پھیر دیئے کہ وہی اس ملاں کے چیلے چانٹے اب یہ کہتے سنائی دینے لگے کہ بڑا بے ایمان اور پکا کافر ہے۔ایک بزرگ مسلمان کے خلاف پادریوں کے لئے جھوٹی گواہی دینے کو آیا۔تبھی یہ ذلت دیکھی۔دور ہو دے ایسا مردود نا نجار۔ہم تو اس کی شکل سے بیزار اور نام لینے کے روادار ہیں نہ سلام کے۔اردلی نے جو کچھ بتایا محبت واخلاص اس کے محرک تھے۔یا کوئی طمع وحرص۔ہوا کے رخ نے اس کو جرات دلائی یا صاحب بہادر کے سلوک و طریق نے مجھے ان باتوں کا علم ہوا اور نہ ہی اس کی مجھے ضرورت تھی۔جو کچھ اس نے سنایا اس کا خلاصہ مطلب یہ تھا کہ : ”مرزا صاحب جب کمرہ میں داخل ہوئے تو صاحب نے ایک خالی کرسی کی طرف اشارہ کر کے بیٹھنے کو کہا اور آپ کرسی پر بیٹھ گئے۔ڈاکٹر کلارک بھی صاحب کے پاس کرسی پر بیٹھا تھا۔مولوی صاحب کو جب آواز پڑی اور جلدی جلدی اندر آئے تو مرزا صاحب کو کرسی پر بیٹھے دیکھ کر جل بھن کر آگ بگولہ ہو گئے۔دائیں بائیں دیکھا تو کرسی کوئی خالی نہ تھی۔رہ نہ سکے اور بیساختہ صاحب بہادر سے کہنے لگے کہ مجھے کرسی ملنی چاہئے۔کیونکہ میرے باپ درباری کرسی نشین تھے۔اور میں بھی۔ڈاکٹر مارٹن کلارک نے بھی شفارشاً کہا کہ گواہ ایک معزز مذہبی لیڈر ہے مگر صاحب بہادر نے کہا کہ ہمارے پاس ان کے باپ کے متعلق کوئی ایسی اطلاع ہے نہ ان کے اپنے متعلق۔صاحب کا یہ جواب سن کر مولوی محمد حسین صاحب اور بھی جھنجلائے اور صاحب کی میز پر ہاتھ رکھ کر کسی قدر آگے کو جھکے اور پھر کرسی کے لئے اصرار کیا۔صاحب بہادر کو ان کی یہ ادا ناگوار گذری۔انہوں نے اسے گستاخی سمجھ کر جھڑ کیاں دے کر خاموش رہنے ، پیچھے ہٹنے اور سیدھا کھڑے ہونے کی غرض سے غصے میں کہا : وو بک بک مت کر۔پیچھے ہٹ۔سیدھا کھڑا ہو۔“ چنانچہ اس پر مولانا ٹھنڈے ہو کر سیدھے تیر ہو گئے۔ی تو وہ واقعہ تھا جس کی گونج ہم نے کانوں سنی اور تفصیل صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کے اردلی کی زبانی سنی۔جو موقعہ پر موجود اور چشم دید گواہ تھا۔اس کے بعد جب گواہی انکی ختم ہوئی تو اردلی کی نگرانی میں باہر بیٹھنے کا حکم ہوا۔مولانا کچھ وکلاء کی