اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 175 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 175

۱۷۵ ۲۹ جولائی کو اللہ تعالیٰ ایک کیفیت دکھاتے ہیں یکم اگست کو ڈپٹی کمشنر امرتسر ایک وارنٹ جاری کرتا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آنے والے واقعہ کی قبل از وقت حضور کو اطلاع دے دی تھی۔حضور نے یہ رویا ء اور الہامات حسب معمول بتا دیئے۔اور دوسرے معزز اصحاب واراکین کے ساتھ میں بھی ان سننے والوں میں سے ایک تھا۔الہامات سنے، قبل از وقت سنے اور براہ راست خدا کے نبی و رسول علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان سے سنے علی رؤس الا شہاد سنے ، آپ کے لب ہائے مبارک کو ہلتے دیکھا اور آواز کو اپنے کانوں سے سنا۔ابھی چند ہی روز گذرے ہوں گے کہ گورداسپور سے چوہدری رستم علی صاحب نے کسی احمدی دوست کے ذریعہ اطلاع بھجوائی کہ: امرتسر سے حضور کی گرفتاری کے وارنٹ جاری ہو چکے ہیں۔امرتسر کے ڈپٹی کمشنر کی طرف سے آج ایک تار ملا ہے کہ وہ وارنٹ روک لیا جائے۔گو وارنٹ ابھی تک کوئی نہیں پہنچا مگر تار سے اتنا پتہ ضرور ملتا ہے کہ وارنٹ جاری کئے جاچکے ہیں کوئی انتظام کر لیا جائے۔“ دوسری طرف ایک دوست نے امرتسر سے آکر حضرت کے حضور عرض کیا کہ میں نے امرتسر سے سنا کہ کسی پادری نے حضور کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ دائر کیا ہے اور کہ وہاں سے وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہو گئے ہیں دشمن خوشیاں منا اور حضور کی گرفتاری کا انتظار کر رہے ہیں۔“ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبل از وقت رؤیا کشف والہامات کے ذریعہ ایک صاعقہ تہدید حکام اور ابتلاء کی اطلاعات کے ساتھ ہی دو مختلف مقدمات سے اپنے مخلص دوستوں کے ذریعہ اس قسم کی اطلاعات کا ملنا الہی کلام اور علام الغیوب ہستی کے قول کی تصدیق تھی۔حضور پرنور نے سنت انبیاء کے مطابق ظاہری انتظامات اور ضروری سامانوں کے جمع کرنے کی طرف توجہ فرمائی۔بعض خدام کو گورداسپور بھیج کر حقیقت حال اور معاملہ کی تفاصیل معلوم کرنے کا انتظام فرمایا۔چوہدری رستم علی صاحب مرحوم نے امرتسر سے بھی حالات معلوم کرنے کی کوشش کی مگر کوئی تفصیلی اطلاع نہ مل سکی۔جہاں تک میری یادداشت کام کرتی ہے ہمارے محترم سیکھوانی دوست اس ذیل میں ادھر ادھر کی دوڑ دھوپ میں پیش پیش تھے۔یا او جلہ کے بھائی جو گورداسپور کے قریب ہونے کی وجہ سے محترم چوہدری صاحب سے ملتے جلتے رہتے تھے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس واقعہ سے کچھ ہی روز پہلے اسی قسم کے ایک معاملہ میں مکرم چوہدری صاحب نے عزیز مکرم چوہدری غلام محمد صاحب کو جو آجکل حافظ صوفی غلام محمد صاحب آف ماریشیس کے نام سے معروف اور مسجد محلہ دار الرحمت کے امام الصلوۃ ہیں خاص طور پر ایک پیغام دے کر بھیجا تھا مگر ان کو راستہ ہی میں