اصحاب احمد (جلد 9) — Page 171
121 ۴۔ڈولی اور بیوگی سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد جب حضور کا جسد اطہر بٹالہ سے قادیان لایا جا رہا تھا تو اس خادم کی ڈیوٹی حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کے رتھ کے ساتھ تھی۔حضرت مدوحہ اس وقت خاموشی کے ساتھ ذکر واذکار اور دعاؤں میں مشغول تھیں اور صبر ورضا کا کامل نمونہ پیش فرما رہی تھیں۔جب رتھ نہر کے پل پر سے گذر کر آگے بڑھی تو حضرت ممدوحہ نے ایک پُرسوز اور رقت آمیز آواز سے فرمایا۔” بھائی جی! پچیس سال گذرے میری ڈولی اس سڑک پر سے گزری تھی۔آج میں بیوگی کی حالت میں اس سڑک پر سے گذر رہی ہوں۔یہ الفاظ آج بھی میرے کانوں میں گونجتے اور درد پیدا کر رہے ہیں۔میں بچہ تھا جب والدین اور عزیزوں اور رشتہ داروں کو چھوڑ کر قادیان پہنچا۔لیکن سیدۃ النساء کی شفقت اور مہربانی کی وجہ سے میں نے اور دوسرے احمدی بھائیوں نے کبھی بھی اپنے آپ کو کیلا اور یتیم نہیں سمجھا تھا۔اور اس شفیق ہستی کے طفیل ہم نے سب رشتہ داروں کو بھلا دیا تھا۔لیکن اب جب کہ حضرت ممدوحہ کی وفات کا عبرتناک واقعہ ہوا ہے۔ہمارے دل غم سے نڈھال ہو گئے ہیں اور ہم اپنے آپ کو پھر یتیم محسوس کرتے ہیں۔اے خدا! تو اس مبارک وجود کو جس کو تو نے اپنی خدیجہ اور اپنی نعمت قرار دیا۔جس کو تو نے مقدس خاندان کی بانی بنایا۔جس کے ذریعے سے تو نے پنجتن پاک کا ظہور فرمایا جس کو تو نے مسیح پاک اور بروز محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت کا فخر بخشا۔اعلی علیین میں مقام بلند وارفع عطا فرما اور اس کے درجات ہر آن بلند فر ما تا چلا جا اور اس کی اولاد اور لواحقین پر بھی بے شمار رحمتیں اور فضل فرما۔آمین ثم آمین ۳۸ (زیر مضمون سيدة النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا کا روحانی اور اخلاقی کمال ” مرقومہ بزرگ بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی) * -۵- کونسا درود پڑھنا چاہئے آپ تحریر فرماتے ہیں کہ : حضرت بھائی کا یہ مضمون ۱۹۳۹ء میں شائع ہوا۔اس لئے خطوط واحدانی میں یہ سن تحریر کر دیا گیا ہے تا ی علم میں آ جائے کہ آج کل سے کیا مراد ہے۔