اصحاب احمد (جلد 9) — Page 159
۱۵۹ حضور کوٹ پہنے بغیر سیر کے واسطے کبھی تشریف نہیں لے جاتے تھے۔جوتی حضور کی ہمیشہ دیسی ہوتی تھی بوٹ میں نے حضور کو کبھی پہنے نہیں دیکھا ایک دفعہ ایک گر گاہی کسی نے حضور کے واسطے بھیجی یا پیش کی تھی مگر اس کے الٹے سیدھے کا حضور کو خیال نہ رہتا تھا اور اس وجہ سے حضور کو تکلیف ہوتی تھی آخر چھوڑ دی تھی۔حضور سیر میں تشریف لے جاتے تو حضور کے ہمرکاب اکثر مقامی دوست اور مہمان ضرور ہوا کرتے تھے۔حضور سیر میں دینی باتیں فرمایا کرتے تھے۔بعض اوقات نئی تصانیف کے مضامین باتوں باتوں میں سنا دیا کرتے تھے۔دوستوں کے سوالات کے جواب بھی دیا کرتے تھے۔اور اس طرح جاتے اور آتے سارا وقت اسی قسم کی گفتگو میں خرچ ہوا کرتا تھا اور یہ ایک قسم کا شاندار در بار رواں کا نقشہ ہوا کرتا تھا۔حضرت خلیفہ اول چلنے میں کمزور تھے۔حضور پرنور کی رفتار تیز تھی۔مگر تیزی نظر نہ آتی تھی بلکہ ایک وقار اور سنجیدگی لئے ہوئے ہوا کرتی تھی۔حضرت مولوی صاحب لوگوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے ہولے ہولے چلا کرتے تھے اور اکثر حضور کے پیچھے رہ جاتے تھے۔حضور کو معلوم ہوتا تو حضور ان کے انتظار میں ٹھہر جایا کرتے تھے۔حضرت خلیفہ اول ہی پر کیا منحصر ہے اور بھی بعض دوست حضور کے ساتھ اور حضور کی باتیں سننے کی غرض سے بجائے چلنے کے دوڑ دوڑ کر ساتھ ہوا کرتے تھے۔چند مرتبہ جانب شمال کی سیر سے واپسی پر حضور (ہندو) بازار میں سے بھی معہ خدام گذرے ہیں (جو شمالاً جنوبا ہے ) جب حضور بازار میں سے گذرتے تو دکاندار کیا ہندو اور کیا سکھ بھی حضور کے لئے ادب سے کھڑے ہو جایا کرتے تھے۔اور کوئی کوئی سلام بھی کیا کرتا تھا۔ایک مرتبہ حضور اڈہ خانہ والے بازار میں سے بھی ( جو شرقا غربا ہے ) گذرے تھے۔اس وقت حضور کے ساتھ خدام کی بھاری تعداد تھی اور چونکہ وہ بازار ڈھلوان ہے لہذاوہ نظارہ نہایت ہی شاندار اور دلکش تھا ( یعنی حضور اپنے مکانات سے سیر کو تشریف لے جانے کے لئے اس بازار کے راستہ گئے تھے ) ایک موقعہ پر غالباً جلسہ کے ایام تھے بوٹر کی طرف حضور سیر کے واسطے تشریف لے گئے تو حضور کے ساتھ بڑی بھیڑ تھی۔گردو غبار بہت اڑتا تھا۔چلنا دشوار ہو گیا۔حضور تھوڑی دور جا کر کھلے کھیتوں میں جہاں آجکل مسجد نور اور اس کے پاس جلسہ گاہ والا میدان ہے ) میدانی شکل تھی ، فصل نہ تھی ٹھہر گئے اور اس موقعہ سے فائدہ اٹھا کر بعض دوستوں نے الگ الگ حضور کی خدمت میں حاضر ہونا شروع کیا۔اس دن قادیان سے شمالی جانب ایک بہت بڑی چھاؤنی کا نظارہ تھا۔ایک زمانہ ایسا بھی آیا تھا کہ حضور مردوں کے ساتھ سیر کرنے کو تشریف نہ لے جاتے تھے بلکہ صرف