اصحاب احمد (جلد 9) — Page 158
۱۵۸ ابتداء میں حضور بٹالہ کی سڑک کی طرف سیر کے لئے تشریف لے جاتے تھے اور کم از کم موڑ تک جاتے تھے۔گاہ گاہ موڑ سے آگے بٹالہ کی جانب بھی تشریف لے جاتے تھے۔ایک دو مرتبہ نہر تک جانا بھی حضور کا مجھے یاد ہے۔اس کے علاوہ میں حضور کے ہمرکاب جانب شرق قادر آباد ( نیا گاؤں) کی طرف سے بسراواں کی طرف اور قادرآباد (نیا گاؤں) سے شمالی جانب کے راستہ سے جو قادر آباد (نیا گاؤں ) اور بھینی کے درمیان سے جاتا ہے، اس راستہ پر بھی سیر کو گیا ہوں چند مرتبہ منگل باغباناں کی جانب بھی حضور سیر کے واسطے تشریف لے گئے ہیں اور کاہلواں تک سیر فرمائی ہے۔(منگل باغباناں کو بہشتی مقبرہ کے مشرق کی طرف سے گذرنے والے راستہ سے تشریف لے جاتے تھے جس کے راستہ میں باغیچہ پیر شاہ چراغ ☆ آتا تھا ) * حضرت بھائی جی نے مزید یہ تحریر فرمایا ہے کہ حضور قادیان سے شمال کی جانب موضع بوٹر کی طرف بھی سیر کے واسطے تشریف لے جایا کرتے تھے اور بعض دفعہ حضورا اپنے باغ کی طرف بھی جو شہر سے جانب جنوب واقع ہے سیر کے واسطے گئے ہیں۔باغ سے آگے لیلاں کی طرف ( باغ کے مغرب کی طرف سے ) ایک رستہ جاتا ہے۔اس طرف کو اور بعض اوقات حضور باغ ہی میں ٹھہر کر سیر فرماتے اور بعض پھل منگا کر خدام کو کھلاتے اور خود بھی شریک ہوا کرتے تھے خصوصا شہتوت، بیدا نہ اور آم۔( از مؤلف ) بڑے باغ کے مغرب کی طرف راستہ ۱۹۶۲ء سے پہلے موضع منگل باغباناں کی اشتمال اراضی کی وجہ سے ختم ہو چکا ہے۔سیر کے سلسلہ میں حضرت بھائی جی نے مزید تحریر فرمایا ہے کہ و کبھی کبھی حضور کمر میں ایک پڑکا بھی باندھا کرتے تھے ہاتھ میں حضور کے چھڑی ضرور ہوا کرتی تھی جو عموما موٹے بید کی اور کھونٹی دار ہوا کرتی تھی۔" ہ یا عبارت میں نیا گاؤں خطوط وحدانی میں دو بار اصل عبارت کا حصہ ہے۔-۲- باغچه بطور مترو کہ جائداد تقسیم ملک کے بعد بعض پناہ گزینوں کو الاٹ ہوا۔آموں کے پیر پھل دینے کے قابل نہ تھے۔انہوں نے کاٹ ڈالے۔۱۹۶۲ء سے چند سال پہلے حضرت مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ ( ناظر اعلیٰ وامیر مقامی ) نے یہ قطعہ ذاتی طور پر خرید لیا تھا۔