اصحاب احمد (جلد 9) — Page 146
۱۴۶ اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حکم سے قائم کیا گیا۔اس دالان کے جانب جنوب سے لے کر موجودہ مہمان خانہ تک مسلسل ایک پلیٹ فارم تھا جو دراصل شکستہ شہر پناہ یا فصیل تھی۔یہ پلیٹ فارم تھیں بتیس فٹ چوڑا اور ایک سو دس فٹ لمبا تھا۔مطب حضرت خلیفہ اول سید نا حضرت حکیم الامت مولانا مولوی نورالدین صاحب کا مطب اس زمانہ میں یہی دالان تھا۔جو موجودہ موٹر گیراج کے جانب شمال واقع ہے۔مگر یہ مطب پہلے صرف ایک لمبے دالان کی صورت میں تھا۔جس کے جانب شمال دو کوٹھڑیاں تھیں جن کے دروازے جانب جنوب اس دالان میں کھلتے تھے۔مشرقی کوٹھڑی میں سیدنا حضرت اقدس مسیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام کا کتب خانہ ہوا کرتا تھا۔جس کے انچارج اس زمانہ میں جس کا میں ذکر کر رہا ہوں حضرت پیر جی سراج الحق صاحب نعمانی تھے اور دوسرے غربی جانب کی کوٹھڑی عموماً کھلی رہتی تھی اور مسافروں یا مہمانوں کے کام آیا کرتی تھی۔آجکل اس دالان کے بیچوں بیچ ایک دیوار کھڑی کر کے دوحصوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔جس کے غربی حصہ میں ان دنوں بھی مولانا مولوی قطب الدین صاحب مطب کرتے رہے ہیں۔اس دالان کی دیواروں میں چند الماریاں ہوا کرتی تھیں جن میں طلباء قرآن و حدیث و طب یا بعض مستقل مہمان اپنا اپنا سامان ضروری رکھا کرتے تھے۔اس دالان کے بالائی حصے پر آجکل پیر جی سراج الحق صاحب نعمانی کے مکان کا صحن ہے اور شمالی جانب کی دونوں کو ٹھڑیوں کے اوپر دو کو ٹھڑیاں بغرض رہائش برائے پیر جی سراج الحق صاحب نعمانی بنائی گئی تھیں جو آجکل بھی موجود ہیں یہ بالا خانہ سید نا حضرت اقدس مسیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں حضور پاک کے ایما کے ماتحت بعض صاحب توفیق مخلصین میں تحریک کر کے امدادی چندہ سے پیر جی سراج الحق صاحب نعمانی کی رہائش کی غرض سے بنایا گیا تھا۔اور خود حضور نے بھی بڑی رقم اس میں لگائی تھی۔اس مطلب کی جانب غرب موجودہ گلی جانب مشرق ڈھاب (ایام برسات میں ڈھاب اس دالان مطب کی مشرقی دیوار کے ساتھ آن ٹکرایا کرتی تھی۔اور اکثر ان دنوں سیدنا حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب اور ہم لوگ بھی دروازہ میں بیٹھ کر یا زیادہ سے زیادہ ایک سیڑھی اتر کر وضو کر لیا کرتے تھے۔) جانب جنوب موجودہ موٹر خانہ جس کے پہلے دو دروازے مطب کی طرف کھلتے تھے۔جو بعد میں پریس کی گڑگڑاہٹ سے بچنے کی خطوط وحدانی کی عبارت خاکسار مؤلف نے حضرت بھائی جی سے استفسار کر کے زائد کی ہے۔