اصحاب احمد (جلد 9) — Page 147
۱۴۷ خاطر حضرت مولوی صاحب کے حکم سے بند کر کے الماریوں میں تبدیل کر دئے گئے تھے اور جانب شمال دو کوٹھڑیاں جن میں سے ایک کتب خانہ اور دوسری کھلی بطور مسافر خانہ یا مہمان خانہ استعمال ہوتی تھی۔غربی کوٹھڑی میں ایک کھڑ کی جانب کو چہ شارع عام لگی ہوئی تھی۔اور مشرقی کوٹھڑی میں جانب مشرق ایک کھڑ کی تھی۔ان کو ٹھڑیوں کے جانب شمال حضرت مولوی صاحب کا پہلا رہائشی مکان واقع تھا جس میں ان دنوں مفتی فضل الرحمن صاحب بود و باش رکھتے ہیں۔گول کمره (۱۸۹۵ء میں ) گول کمرہ کا صرف وہی حصہ تھا جو گول کمرہ کی صورت میں مسقف ہے اگلے حصہ کی چار دیواری بعد میں بنائی گئی اور اب جہاں گول کمرہ کا صحن ہے یہ حصہ پہلے بالکل کھلا اور میدان میں شامل تھا (بعد میں حضرت میر ناصر نواب صاحب مع اہل و عیال اور اپنے ہمشیرہ زاد محمد سعید صاحب اس میں رہائش پذیر ہے۔گول کمرہ سے ایک دروازہ دار مسیح کے نچلے حصہ میں جانب شمال کھلتا ہے اس سے دار مسیح میں آمد و رفت رہتی تھی ) ۲۳ مسجد مبارک اور اس کے تین حصے ان دنوں مسجد مبارک میں جانے کے لئے ایک ہی سیڑھی تھی۔جو آج ( ستمبر ۱۹۶۰ء) تک بھی ( بعینہ ) موجود ہے اور مسجد مبارک کی کوچہ بندی میں جانب غرب اس کا دروازہ کھلا ہے اور یہ تنگ سیڑھی ایک چکر کھا کر مسجد مبارک کے تیسرے حصہ میں کھلتی تھی۔سیڑھی پر چڑھیں تو اس ) کے بائیں جانب ایک غسل خانہ تھا جس میں وضو اور غسل کے لئے پانی رکھا رہتا تھا۔اور مسجد مبارک کی سطح سے ان دنوں اس کی سطح نیچی تھی اور اسی غسل خانہ میں ایک لکڑی کی سیڑھی لگی تھی جس کے ذریعہ گول کمرہ کی چھت پر جاتے اور وہاں سے دوسری سیڑھی کے ذریعہ غسل خانہ کی چھت پر پہنچتے اور مسجد مبارک کی بالائی چھت دو یا تین ہی خطوط واحدانی کے الفاظ خاکسار نے بھائی جی سے پوچھ کر زائد کئے ہیں۔بھائی جی کی اہلیہ محترمہ بیان کرتی ہیں کہ جب میں شادی ہو کر آئی اس وقت گول کمرہ کے صحن کے احاطہ کی تینوں اطراف (مشرق۔مغرب اور جنوب) کی دیوار میں تعمیر ہو چکی تھیں اور اس میں حضرت نانا جان میر ناصر نواب صاحب ضع اہلیت قیام رکھتے تھے۔