اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 143 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 143

۱۴۳ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی ڈیوڑھی تھی۔جہاں مشرق کی طرف سے دار کے نچلے حصے میں داخل ہوتے ہیں۔سالن اس ڈیوڑھی میں ملک غلام حسین صاحب پکاتے تھے * بعد ازاں لنگر خانہ اس ڈیوڑھی کے ملحقہ شمالی کمرہ میں منتقل ہو گیا۔اور اب ملک صاحب موصوف نے وہاں ایک تنور لگالیا۔جس میں وہ روٹیاں بھی پکانے لگے۔سالن تو وہ پہلے بھی تیار کرتے تھے ) کھانے میں عموماً دال اور کبھی کبھی سبزی ،گوشت ، بعض اوقات ایک وقت دال اور دوسرے وقت (کسی سبزی کا ) سالن ہوتا تھا۔دال عموماً چنے کی ایسی پیلی مگر لذیذ ہوتی تھی کہ کھانے والے پیالہ اٹھا اٹھا کر گھونٹ گھونٹ پی جایا کرتے تھے۔(لنگر خانہ کے لئے آٹا دھار یوال سے یا موضع ہر چووال کی نہر کے قریب ایک گاؤں سے لایا جاتا تھا۔آٹے کے انتظام کے لئے حضرت نانا جان بھی کئی بار بنفس نفیس تشریف لے جاتے تھے۔آٹے کی فراہمی کا اہتمام کرنے کی سعادت حضرت بھائی عبد الرحیم صاحب ( نومسلم ) حضرت میاں کرم داد صاحب سکنہ دوالمیال جب کہ وہ کافی دنوں کے لئے قادیان آئے تھے ملک غلام حسین صاحب باروچی اور خاکسار اور بعض اور احباب کو جن کے نام اب یاد نہیں ہلتی رہی ہے ) حضرت اقدس کا مہمانوں کے ساتھ شریک طعام ہونا یہی یا اس کے قریب ہی کا وہ زمانہ ہے جبکہ بعض اوقات سید نا حضرت اقدس مسیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام خود اپنے دست مبارک سے مہمانوں کے لئے کھانا اور ناشتہ وغیرہ لا کر پیش کیا کرتے۔بے وقت آنے والوں کے واسطے خاطر تواضع کا سامان مہیا فرماتے۔ایسا بھی ہوا کہ حضور کے مکان میں کھانا تناول فرماتے ہوئے کسی مہمان کی ضرورت یا آنے کی اطلاع دی گئی تو اپنے سامنے کا کھانا ہی اٹھا کر اس خوش بخت کے لئے بھیج دیا۔کئی سال اس حال میں گذرے۔سلسلہ کی ترقی کے ساتھ ساتھ لنگر نے بھی ترقی کی۔گھر کی بجائے حضرت ملک غلام حسین صاحب جن کا وطن رہتاس ضلع جہلم تھا تقسیم ملک کے وقت بامر مجبوری قادیان سے نیروبی (مشرقی افریقہ) اپنے بچوں کے پاس چلے گئے جہاں ۶ جنوری ۱۹۵۴ء کو وہ وفات پاگئے۔ان کی اہلیہ محترمہ وہان ۳۱ اکتوبر ۱۹۵۰ء کو داعی اجل کو لبیک کہہ چکی تھیں۔دونوں قبرستان نیروبی میں دفن ہیں۔اللهم اغفر لهما و ارحمهما - آمین