اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 139 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 139

۱۳۹ اور ٹوکریاں وغیرہ چھین کر ان کے ہاں پہنچا دیتا تھا۔“ سردار صاحب نے سید احمد نور صاحب کابلی والے مشہور واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت مار پیٹ ہوئی اور ہم دس بارہ غیر مسلموں پر بلوہ کا مقدمہ دائر ہوا۔بلوائیوں کی فہرست میں میں اور بڑے بھائی سردار پرتاپ سنگھ صاحب کے نام بھی شامل تھے۔ہماری درخواست کرنے پر ( حضرت ) مرزا صاحب نے (حضرت) شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کو بلا کر ہدایت کی کہ تحصیلدار صاحب بٹالہ کے پاس جائیں اور ان سے کہہ دیں کہ ہم نے ان بلوائیوں کو معاف کر دیا ہے۔حضرت عرفانی صاحب ایک جگہ لکھتے ہیں کہ باوجود میرے عرض کرنے کے کہ یہ مقدمہ فوجداری ہے اور سر کا ر کی طرف سے دائر ہے اور اب صرف فیصلہ سنائے جانے کے لئے پیشی مقرر ہے حضور نے یہی حکم دیا کہ ہماری طرف سے آپ جا کر یہ کہہ دیں چنانچہ تحصیلدار صاحب نے ان بلوائیوں کو شرمندہ کیا کہ ایسے نیک شخص کو آپ لوگ تنگ کرتے ہیں کہ جس نے عین سزا سنائے جانے کے وقت بھی آپ لوگوں کو معاف کر دیا ہے۔سردارصاحب مزید یہ بیان کرتے ہیں کہ سید احمد نور صاحب کا بلی والے معاملہ میں لا بھا برہمن کے بھائی کو سر پر چوٹ آئی تھی۔جس کا علم ہونے پر ( حضرت ) مرزا صاحب نے ایک طرف تو سید صاحب کو بلا کر کہا کہ ان دونوں پٹھانوں کو جو اس مار پیٹ کی لپیٹ میں آگئے تھے فوراً ان کے وطن روانہ کردیں اور فرمایا یہ غیر مسلم ہمارے عزیز ہیں اور ہمارے ہم وطن ہیں ہمیں ان کا ہر طرح لحاظ ہے اور دوسری طرف ایک سوروپیہ کا نوٹ لا بھا برہمن کے بھائی کو بھجوایا کہ اسے اپنی غذا اور دوا پر صرف کریں اور مقدمہ تک نوبت نہ پہنچا ئیں۔لیکن چونکہ برہمن مذکور نے دوسرے لوگوں کی شہ پر مقدمہ دائر کر دیا یا رپٹ لکھوادی اس لئے بلوہ والا معاملہ اٹھانا پڑا۔خطوط وحدانی کے الفاظ خاکسار مؤلف کے ہیں) ۲- حضرت اقدس کے زمانہ میں قادیان مهمان خانه مہمان خانہ ابتداء میں کوئی خاص موجود نہ تھا نہ مقرر۔آنے والے خوش نصیبوں کے ناز اس زمانہ میں