اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 136 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 136

۱۳۶ کی طرف چلا گیا۔اور قریباً قریباً ایک آنہ باقی تینوں شریک بھائیوں کا تھا۔* خاکسار مؤلف موقعہ کی مناسبت سے سردار کشیش سنگھ صاحب ولد سردار لہنا سنگھ صاحب قوم رام گڑھیہ ساکن قادیان مذکور کا ذیل کا بیان یہاں درج کرتا ہے۔جو انہوں نے خاکسار کے استفسارات پر بیان کیا۔ان کے مکانات قصر خلافت کے قریب ہیں۔باوجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خاندان کے احسانات کے اقرارات کے تاوفات مخالفت سلسلہ میں ان افراد نے کبھی کمی نہیں کی تھی۔* حضرت مرز اغلام مرتضی صاحب کے ترکہ کے بارہ میں مکرم حضرت بھائی عبدالرحمن قادیانی کا یہ بیان غلط فہمی پر مبنی اور درست نہیں۔آپ کے ترکہ کے بارہ میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ نے سیرت المہدی حصہ اول میں تفصیلی ذکر کیا ہے۔قادیان کی کل ملکیت پانچ حصوں میں تقسیم کی گئی تھی۔دوحصے اولا دمرزا تصدق جیلانی کو آئے تھے اور دو حصے اولا د مرزا گل محمد صاحب کو اور ایک حصہ خاص مرزا غلام مرتضی صاحب کو بحیثیت منصرم کے آیا تھا۔جو بعد میں صرف ان کی اولاد میں تقسیم ہوا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہمارے دادا صاحب کی وفات کے بعد ہمارے بعض غیر قابض شرکاء نے مرزا امام الدین وغیرہ کی فتنہ پردازی سے ہمارے تایا مرزا غلام قادر صاحب پر دملیابی جائداد کا دعوی دائر کر دیا اور بالآ خر چیف کورٹ سے تایا صاحب کے خلاف فیصلہ ہوا۔اس کے بعد پسران مرزا تصدق جیلانی اور مرزا غلام غوث ولد مرزا قاسم بیگ کا حصہ تو اس سمجھوتے کے مطابق جو پہلے سے ہو چکا تھا۔مرزا اعظم بیگ لاہوری نے خرید لیا۔جس نے مقدمہ کا سارا خرچ اسی غرض سے برداشت کیا تھا اور پسران مرز اغلام محی الدین صاحب اپنے اپنے حصہ پر خود قابض ہو گئے۔مرزا غلام حسین کی چونکہ نسل نہیں چلی اس لئے ان کا حصہ پسران مرز اغلام مرتضی صاحب و پسران مرزا غلام محی الدین کو آ گیا۔* بھائی جی لکھتے ہیں کہ : سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضور کے مہمان اور خادم غلاموں کو نہ صرف حضور کے شر کا ء ہی ستاتے اور دُکھ دیتے اور اذیت پہنچایا کرتے تھے بلکہ رعیت اور کمین کہلانے والے لوگ بھی ان کی شہہ اور انگیخت پر اتنے دلیر اور سینہ زور ہورہے تھے کہ کسی قسم کے زور و تعدی اور جفا سے ان کو دریغ نہ تھا۔( غرض انبیاء کی طرح ہر طبقہ کی طرف سے فرداً فرداً اور اجتماعاً حضور کی مخالفت ہوئی جس میں ان لوگوں نے ناجائز اور جائز کا امتیاز نہ کیا۔لیکن حضور نے وہ زمانہ نہ صرف یہ کہ خود پورے صبر وشکر ،