اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 135 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 135

۱۳۵ اپنوں اور رعیت و محکوم لوگوں کا یہ حال تھا تو غیروں کی مخالفت ان کے مظالم اور سلسلہ کونا بود و معدوم کر دینے کی کوششوں اور منصوبوں کا کیا حساب وشمار ہوسکتا ہے؟ * سید نا حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے خاندانی ترکہ سے جو ورثہ پایا اس کا اندازہ اللہ تعالیٰ کے اس تسلی آمیز اور محبت بھرے کلام سے ہو سکتا ہے جو حضرت کو اپنے والد صاحب بزرگوار کی وفات کے باعث و تقاضائے بشریت بعض وجوہ معاش کے بند ہو جانے کے خیال سے پیدا ہونے والے فکر پر آپ کو الہام فرمایا: اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ ، تر کہ مرحوم کا قادیان کی اراضیات میں تخمینا تین آنہ تھا۔بارہ آنہ بعض پیچیدگیوں میں مرزا اعظم صاحب الدار کا کنواں۔بھائی جی لکھتے ہیں: کنواں ہمارا صرف ایک وہی تھا جو مسجد اقصیٰ کے صحن میں بانی مسجد علیہ الرحمۃ نے بنوایا۔اس کے بعد سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الزار میں بننے والے کنوئیں کی تعمیر کسی قدر تفصیل چاہتی ہے۔کن حالات میں اور کس طرح وہ بنا۔سیدہ النساء حضرت اُم المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو طعن کیا گیا جس کے نتیجہ میں فوری احکام کے ماتحت رات دن ایک کر کے سوائے ڈیوڑھی، اجرت پر چاہ کن اور چاہ ساز مہیا کئے گئے اور ہفتوں کا کام دنوں میں پورا کر کے یہ کنواں تیار ہوا۔اس کے بعد دوسرا کنواں وہ بنا جو موجودہ بلڈ پو کے مشرقی جانب ہے۔اس کا پہلا نام بورڈنگ کا کنواں ہوا کرتا تھا۔بدر مورخہ ۷ / جولائی ۱۹۵۲ء صفحہ ۵ پر محترم مرزا برکت علی صاحب اسٹنٹ انجینئر ابادان ( ایران ) کا تیار کردہ نقشه الدار مع تفصیل درج ہے۔ان نقشہ جات کی تیاری میں ان کے خسر حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی تفصیل بتا کر مدد دیتے تھے۔اس کنویں کے بارے میں وہاں لکھا ہے جو گویا بھائی جی کا بیان کردہ ہے کہ حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی نے بھی چک نیچے اتارنے میں حصہ لیا۔اس وقت حضرت اُم المؤمنین اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام چھت پر کھڑے ملاحظہ فرمارہے تھے۔“