اصحاب احمد (جلد 9) — Page 134
۱۳۴ الهام الى مولف) إِذَا نَصَرَ اللَّهُ الْمُؤْمِنَ جَعَلَ لَهُ الْحَاسِدِيْنَ فِي الْأَرْضِ کی صداقت روزانہ آنکھوں سے دیکھنے کا موقعہ ملا کرتا۔ملکیت کے لحاظ سے وہ تینوں بھائی مل کر بھی حضرت کی ملکیت سے تقریباً ایک تہائی پر تھے۔مگر زوروجور کے لحاظ سے ایسا نظر آیا کرتا کہ گویا وہی مالک و حاکم تھے۔اور تفاصیل کو چھوڑتا اور ان کی ایذا رسانی کی صرف ایک ہی مثال درج کرتا ہوں جو جماعت میں مقدمہ دیوار کے نام سے مشہور و معروف ہے۔یہ کام حضور کے شرکاء نے محض حضور کو اذیت پہنچانے اور دکھ دینے کی غرض سے سینہ زوری کرتے ہوئے کیا۔ورنہ ان کا قطعاً کوئی حق نہ تھا۔انہوں نے ایک دیوار کھڑی کر کے مسجد مبارک اور مسجد اقصیٰ دونوں کا راستہ بند کر دیا۔جس کی وجہ سے حضور کے خادم ، غلاموں اور مہمانوں کے علاوہ خود حضور پر نور کوسخت اذیت پہنچی۔کیونکہ حضور کو اپنے دوستوں اور خدام کی تکلیف کا احساس اپنی تکلیف سے بھی کہیں بڑھ کر ہوا کرتا تھا۔مساجد میں پہنچنے کے لئے ایک لمبا چکر کاٹ کر لوگوں کو جانا پڑتا۔اور برسات کے ایام میں تو کیچڑ گارے کے باعث اکثر لوگ پھسلنے گرنے سے چوٹیں کھاتے تھے۔حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے از راہ شفقت اپنے مکان کے گول کمرہ کے دروازے کھول کر راستہ بنوایا جس سے بہت حد تک تکلیف اور مشکل میں کمی ہو گئی۔مگر تا ہم یہ ایک بھاری ستم اور انتہائی ظلم تھا جو ان لوگوں نے روا رکھا۔اسی پر بس نہ تھی ان شرکاء کی دیکھا دیکھی اور شہ پر بعض وہ لوگ جو کمین کہلاتے اور رذیل اور ارذل ہوا کرتے وہ بھی دلیر ہورہے تھے۔اور نوبت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ اگر کوئی احمدی کسی ایسے افتادہ کھیت میں بھی رفع حاجت کے لئے چلا جاتا جو ملکیت تو ان کے آقا کی تھی مگر یہ لوگ بطور مزارعہ کبھی اس میں قلبہ رانی کر چکے تھے۔تو یہ بد بخت اس کو اس بات پر بھی مجبور کرتے کہ وہ غلاظت اٹھا کر لے جائے۔- کہیاں ، پھاوڑے اور ٹوکریاں کام کرتے مزدوروں سے چھین کر لے جانا ایک معمولی بات ہو گئی تھی۔انفرادی طور پر لڑائی جھگڑا مار پیٹ اور تذلیل و تحقیر کے سلوک کے علاوہ ایک مرتبہ تو حملہ کر کے غریب احمدیوں کے گھروں تک میں آن گھسے تھے۔ان مشکلات و مصائب اور بے پناہ مظالم کے مقابلہ میں ہمیں حکم یہ تھا کہ : صبر سے سب کچھ برداشت کرو اور اف تک نہ کرو جس میں برداشت کی تاب نہیں اور اس کا نفس اس کو انتقام و مقابلے پر آمادہ کرتا ہے تو بہتر ہے کہ وہ یہاں سے چلا جائے۔“ گالیاں سن کر دعا دو پا کے دکھ آرام دو کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار