اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 126 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 126

۱۲۶ جار ہا تھا۔دوسرا کوئی مکتب تھانہ مدرسہ۔اسی سکول کے ایک ماسٹر کو دو چار رو پیدا الا ونس دے کر ڈاک خانہ کا انچارج یا برانچ پوسٹ ماسٹر بنا دیا جایا کرتا۔جو صبح شام ایک گھنٹہ ڈاک کی آمد اور روانگی نیز دیگر کاموں کے لئے دیا کرتا۔ڈاک بٹالہ سے ایک ہرکارہ کے ذریعہ ہفتہ میں ایک مرتبہ ایک چھوٹی سے تھیلی میں آیا کرتی جو تقریبا تمام کی تمام ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام یا حضور کے غلاموں کی ہوا کرتی تھی۔گاؤں میں شاذ ہی کسی کا کوئی خط ہوا کرتا۔اور اگر کسی کا خط آ بھی جاتا تو اس کو پڑھانے کے لئے در بدر اور کو بہ کو پھرنا پڑتا۔( مجھے اکثر ڈاک اور تار لانے لے جانے کی خدمات سرانجام دینے کا موقعہ ملتا تھا۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ تاروں کے آنے اور جانے میں کن مشکلات کا سامنا ہوا کرتا تھا۔اکثر ایسا ہو جایا کرتا کہ کسی آنے والے مہمان نے آنے کی اطلاع میں تار دیا۔مہمان پہلے آن پہنچتے اور تار بعد میں ملتا۔بعض ایسے معاملات جن کا جواب بذریعہ تار مطلوب ہوتا تو خاص آدمیوں کو اس غرض کے لئے بٹالہ میں جا کر دو دودن تک رہنا پڑتا تھا۔اور کئی اہم کاموں بلکہ جانوں کا بھی اس کمی کی وجہ سے وقت پر دوائی یا طبی امداد نہ پہنچ سکنے کے باعث نقصان برداشت کرنا پڑا کرتا۔دوست لیٹ فی (Fee) اور قلی ہائر (Hire) ادا کر کے بھی اس زمانہ میں تار کے فوائد سے اکثر محروم رہ جایا کرتے تھے بسا اوقات چٹھیاں بھی قادیان کی بجائے بٹالہ میں ڈاک میں ڈالی جاتی تھیں۔کیونکہ خطرہ ہوتا تھا کہ قادیان کے ڈاک خانہ میں ڈاک پڑھ نہ لی جائے۔یا روک نہ لی جائے )۔“ چونکہ بھائی جی کے حالات میں ذکر ہے کہ والد صاحب جب مجھے لینے آئے تو لالہ بڑھامل صاحب کی مشرقی بلڈنگ میں واقع ڈاک خانہ میں اچانک ملے تھے۔آج ۱۲ ستمبر ۱۹۶۰ء کو خاکسار کے عرض کرنے پر موقعہ پر تشریف لے گئے۔لالہ جی کی بازار کے مغربی کونے میں دومنزلہ بلڈنگ ہے اس کے بالمقابل والی عمارت ان کی نہیں۔اس پر میں نے لالہ بڈھا مل جی کے فرزند لالہ واسد یوجی کو تکلیف دی۔انہوں نے بہت سے حالات سنائے اور اپنے نام سے شائع کرنے کی اجازت دی۔لالہ جی نے بتایا کہ میری عمر اس وقت پینسٹھ سال کی ہے میں قادیان کی آریہ سماج کا صدر ۱۹۱۳ء سے ۱۹۵۵ء تک اور دیانند آریو و یدک ہائی سکول کی منیجنگ کمیٹی کا صدر ۱۹۳۱ء سے ۱۹۵۵ء تک رہا ہوں۔میرے والد صاحب ( متوفی ۱۹۳۱ء بعمر اسی سال) نے میرے بڑے بھائی لالہ درگا داس ( متوفی ) کی شادی کے موقع پر اپنی عمارت کے متصل جانب جنوب والی عمارت آریہ سماج کے مندر کے لئے دان کے طور پر دے دی تھی۔اس مندر کے ملحقہ جانب جنوب کی دودکانوں میں شجھ چنک اخبار نکالنے کے لئے اس کا دفتر اور مطبع کھولا گیا تھا