اصحاب احمد (جلد 9) — Page 70
قادر و قیوم خدا کی قدرت نمائی آپ فرماتے ہیں کہ کائنات عالم کا ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے اور ہر شے اس کے تصرف میں ہے اور اس کے حکم وارشاد کی پابند اور وہ جو چاہے کام کر سکتا ہے حتی کہ انسان جو اشرف المخلوقات ہے اس کی عزت و عظمت اس کی کبریائی اور جبروت اور اس کی قدرت و ہیبت کے سامنے ایسا ہی بے بس وتر ساں ہے جیسے ایک نھی سی چیونٹی۔والدین نے میرے دل کو اسلام سے پھیر نے اور مجھے مرتد بنانے کے لئے جو کچھ کیا وہ اتنا زیادہ تھا کہ اگر انسانی کوشش ہی پر سارے تغیرات کا انحصار ہوتا تو وہ نہ صرف مجھی کو مغلوب کر کے اپنا دل ٹھنڈا کر لیتے۔بلکہ بہت ممکن تھا کہ مسلمانوں سے بدلہ لینے کی غرض سے مرتدین کی ایک فوج بنالیتے۔مگر حقیقت یہی ہے کہ انسانی مساعی کو باشمر و بارور کرنا اور دلوں کو کسی چیز پر قائم رکھنا یا اس سے پھیر دینا کسی بات میں اثر پیدا کر کے دلوں کو اس کے قبول کرنے کے لئے تیار کرنا یا اس کو بے اثر بنا کر لوگوں کو اس سے متنفر کر دینا، الغرض تاثیر پیدا کرنا یا غیر موثر بنانا اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت میں ہے۔وہی دلوں کے بار یک در باریک اور نہاں در نہاں بھیدوں سے واقف اور مصرف القلوب ہے۔میرے والدین کی تمام مساعی کو اس نے بے اثر بنا کر مجھے ان کے بداثرات سے بچایا اور میرے قلب کو اسی نے وہ حلاوت ایمانی بخشی جس کے بعد ایمان کی دولت سے دور ہو جانے کی نسبت ہزار موت بھی آسان ہو جاتی ہے۔ان کے سارے سامانوں کو بیکار بنایا تو اسی ذات والا صفات نے۔ورنہ میں بالکل ایک کمزور بچہ تھا نہ کوئی دلیل تھی میرے پاس نہ برہان، جس سے ان کا مقابلہ کرسکتا۔صرف اور صرف اسی غیب در غیب ہستی کا پوشیدہ ہاتھ تھا جس نے ہر نازک ترین مرحلہ پر خود میری حفاظت فرمائی اور دل میں وہ نور ڈالا جو حق و باطل میں تمیز کا موجب بنتا رہا اور ہر موقعہ پر مجھے تسلی و اطمینان اور قوت و ثبات بخشتا رہا۔میری کوئی ذاتی قابلیت نہ تھی بلکہ سرا سر میرے آقا و مالک ہی کا فضل تھا جس نے رہنمائی بھی فرمائی اور ہمیشہ دستگیری بھی کی۔اللہ تعالیٰ کی تدبیر کچھ اور چاہتی تھی۔گھر کی کسی ضرورت کے لئے خاندان کی ایک بوڑھی خاتون کو لانے کی ضرورت پڑ گئی۔باوجود متعصب عمزادہ کی مخالفت کے والدین اسے یا چا کو بھجوانے پر آمادہ نہ ہوئے بلکہ خلاف معمول مجھے بھجوادیا۔سانگلہ ہل کے ریلوے اسٹیشن سے ورے ہی میں نے ساتھی کو جو پہنچانے آیا تھا، رخصت کر دیا۔تا اسے معلوم نہ ہو سکے کہ میں نے کس مقام کا ٹکٹ خریدا ہے۔کیونکہ