اصحاب احمد (جلد 9) — Page 51
۵۱ اس کی آبیاری ، روحانی باغبانی آخری زمانہ کے نبی کے ہاتھوں نہ ہوتی تو یہ بیل منڈھے نہ چڑھتی۔اگر یہ نوح زمان ناخدا بن کر مجھے نہ بچا لیتا تو میری کشتی ، ایمان جو بحرنا پیدا کنار کی طوفانی موجوں کے بھنور میں پڑی ٹھوکریں کھاتی تھی ہرگز کنارے نہ لگتی۔میرے ایمان میں حلاوت پیدا ہوئی تو اسی مردخدا نما کے انفاس طیبہ کے طفیل سے۔اور مجھے روحانی زندگی ملی تو محض اور محض اسی وجود باجود کے روحانی نفخ اور دم مسیحائی کی بدولت۔ورنہ حق یہ ہے کہ میں بھی ایک رسمی مسلمان ہو کر آخر کفر میں جذب ہو گیا ہوتا۔کیونکہ اس وقت زندہ ایمان اور کہیں تھا ہی نہیں۔اس انسان کامل کے اوصاف حمیدہ اور کمالات روحانیہ کا بیان ہزاروں صفحات اور عمر نوح چاہتا ہے۔میں کون اور میری بساط کیا کہ ان کا بیان کروں۔وہ سراسر رحم اور مجسمہ رحمت، وہ پیکر حلم، خدا کی رحمت وحلم کا نمونہ، اپنے خالق و مالک کی محبت میں کھویا ہوا اور اس کے رنگ میں ایسا رنگا گیا کہ خود مظہر صفات الہیہ ہو گیا تھا۔ہر قسم کی حسن و خوبی اس پر ختم تھی۔مہربانی میں ہر مادر مہربان سے اور شفقت میں ہرشفیق باپ سے وہ کہیں بڑھا ہوا تھا۔اتنا کہ مہربان سے مہربان مائیں اور شفیق سے شفیق باپ اس کی مہربانی اور شفقت نے لاکھوں انسانوں کو یاد سے اتار دیئے۔والد صاحب کے ساتھ قادیان سے روانگی کا جو اوپر بیان لکھا جا چکا ہے اس کے بعد کی تفصیل حضرت بھائی جی نے دوسال کے وقفہ سے تحریر میں لائی ہے۔اس کی وجہ آپ ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں:۔”میرے آقا۔میرے ہادی اور ہنما کی قوت قدی وجذب اور حضور پر نور کے اخلاق کریمانہ اور فیض روحانی نے میرے دل کی لوح پر وہ کچھ لکھ دیا جو پھر نہ مٹا۔اور خدا کرے کہ کبھی نہ مٹے۔اور ایسا ہوا کہ میں دنیا کی بادشاہی پر اس کے در کی گدائی کو عزت یقین کرنے لگا۔اور یہی وجہ ہے کہ اس سے جدائی میرے واسطے ایک بھیانک موت نظر آ رہی تھی۔اس وجہ سے دو سال ہوئے یکے کو خاکروبوں کے پنڈورہ پر کھڑے کئے ہوئے ہوں اور دل اس حق نما وجود اور اس کی مقدس بستی سے نکلنا پسند نہیں کرتا۔پنڈورہ سے آگے کا سفر آپ تحریر فرماتے ہیں کہ: میں یکہ کی پچھلی سیٹ پر بیٹھا تا کہ نظر قادیان کی طرف رہے۔نہ معلوم کس خیال سے والد صاحب نے مجھے اپنی جگہ بٹھایا۔اور یکہ جلد چلانے کو کہا۔والد صاحب کی خلاف مرضی دیوانی دال کے تکیہ کے پاس گھوڑا