اصحاب احمد (جلد 9) — Page 29
۲۹ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سے ملاقات میں مسجد مبارک کی کوچہ بندی کے نیچے پہنچا جہاں اوپر جانے والی سیٹرھیوں کی ڈاٹ کے نیچے ایک چارپائی پر دو شخص بیٹھے تھے ایک قرآن شریف پڑھ رہے تھے اور دوسرے پڑھا رہے تھے۔جمعہ کی نماز ہو چکی تھی۔مجھے حضرت میر حامد شاہ صاحب نے جو خط دیا تھا وہ حضرت مولانا عبدالکریم صاحب کے نام تھا۔مگر مجھے ان کا حلیہ وغیرہ کوئی نہ بتایا گیا۔میں نے چار پائی کے برابر پہنچ کر السلام علیکم کہا۔میری آواز پر پڑھانے والے بزرگ نے توجہ کی تو میں نے وہ خط نکال کر ان کے حوالے کر دیا بغیر اس علم کے کہ وہ صاحب ہیں کون ؟ مجھ سے خط لے کر اس بزرگ نے مجھے سر سے پاؤں تک دو تین مرتبہ گھور گھور کر دیکھا اور بیٹھ جانے کا اشارہ کیا۔مسجد مبارک میں حضرت اقدس کی ملاقات قرآن مجید پڑھانے والے بزرگ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب (سیالکوٹی ) تھے اور پڑھنے والے میرے محسن حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب نو مسلم۔خط پڑھ کر فرمایا۔میرا ہی نام عبدالکریم ہے۔اتنے میں حافظ معین الدین صاحب نے جو حافظ معنا کے نام سے مشہور تھے اذان کہی اور ہم سب او پر مسجد مبارک میں چلے گئے۔مجھے مولوی صاحب نے وضو کی جگہ بتائی۔یہ غسل خانہ بعد میں جناب مولوی محمد علی صاحب کے لئے دفتر بن گیا تھا۔( یعنی سرخی کے نشان والا کمرہ۔مولف ) حضرت مولوی عبدالکریم حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب کی بیعت ۱۸۹۴ء کی ہے۔جلد بعد آپ فوجی ملازمت ترک کر کے قادیان میں مقیم ہو گئے تھے۔۱۹۴۷ء کے پُر آشوب زمانہ میں حکما " آپ پاکستان ہجرت کر گئے تھے۔پھر ۱۹۴۸ء میں درویشی دور میں قادیان آگئے۔فالج ہونے پر ۱۹۵۲ء میں سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی اجازت سے آپ ربوہ تشریف لے گئے۔9 جولائی ۱۹۵۷ء کو بروز عید الفطر ربوہ میں وفات پا کر بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے۔تین سو تیرہ صحابہ میں سے تھے۔نہایت متقی ، عالم باعمل اور صاحب کشف والہام بزرگ تھے۔حضرت حافظ معین الدین صاحب نے اار جولائی ۱۹۱۹ء کو وفات پائی۔آپ بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں۔( مفصل حالات کے لئے دیکھئے اصحاب احمد جلد ۱۳)