اصحاب احمد (جلد 9) — Page 414
۴۱۴ بیان سردار عبد الرحمن صاحب سید نا حضرت خلیفہ لمسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کوحضرت بھائی جئی بھی بہت عزیز تھے۔اور حضور ان کے احساسات کا بہت خیال رکھتے تھے اس بارہ میں سردار عبدالرحمن صاحب ( مقیم بمقام کنری ضلع تھر پا کر سندھ ) سناتے ہیں کہ غالبا آغاز ۱۹۳۷ء میں حضور تفریح کے لئے دریا کی طرف جانے والے تھے۔ان دنوں حضرت بھائی جی علیل تھے۔قصر خلافت سے حضور انور نے اپنی بندوق اور رائفل موٹر میں رکھنے کے لئے مجھے دیں۔میرے دریافت کرنے پر کہ حضور کے اسلحہ کی دیکھ بھال کون کرتا ہے فرمایا بھائی جی کرتے ہیں۔مجھے خیال آیا کہ میں اپنے تئیں اس خدمت کے لئے پیش کر دوں اور عرض کیا کہ حضور ! بھائی جی تو اب بوڑھے ہو چکے ہیں۔اس خدمت کے لئے میں اپنے آپ کو پیش کرتا ہوں۔حضور جو کہ بندوق مجھے دے کر واپس جارہے تھے فوراً مڑے اور فرمایا : ہیں کیا کہا ؟ اگر بھائی جی کو اس بات کا علم ہو جائے کہ یہ کام میں ان سے واپس لینا چاہتا ہوں۔لیتا نہیں صرف لینا چاہتا ہوں۔تو وہ رو رو کر مر جائیں۔“ اور کچھ توقف کے بعد فرمایا: و تم کہتے ہو وہ بوڑھے ہو گئے ہیں گو آجکل ان کی صحت خراب ہے تاہم وہ ایسے اخلاص اور دلجوئی سے کام کرتے ہیں کہ بعض اوقات میں خود گھبرا جاتا ہوں کہ کیسے ان کو منع کروں تا ان کی صحت پر برا اثر نہ پڑے۔“ تا ثرات حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب کل شام جب میں نے حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کی میت پر حاضر ہوکر آپ کے چہرہ مبارک کو دیکھا تو مجھے یوں معلوم ہوا کہ آپ کی یہ خاموشی محض ہمارے لئے ہے ورنہ آپ اب بھی اپنے آقا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ہمیشہ تن مصروف ہیں۔میری آنکھیں اس نظارہ کو نہیں بھولتیں جب ۲۵ مئی ۱۹۰۸ء کی شام کو آپ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت میں گھوڑا گاڑی کے پیچھے پائدان پر چاق و چو بند کھڑے تھے اور بیدار خادم اور بیدار محافظ نظر آ رہے تھے یہ میری پہلی ملاقات تھی جو میں نے محض اپنی آنکھوں کے ذریعہ کی تھی۔آج تک