اصحاب احمد (جلد 9) — Page 396
۳۹۶ معلوم ہوتا ہے کہ بارڈر پر پاکستانی چیک پوسٹ کو علم ہو چکا تھا۔جنازہ پہنچتے ہی پولیس اور سول حکام سب ہی خاص ہمدردی سے پیش آئے۔اور انہوں نے پورا تعاون کیا۔اور اپنے خاص اختیارات سے بسوں سمیت احباب کو باؤنڈری لائن تک آنے کی اجازت دے دی۔قادیان کی پارٹی بھی دواڑھائی بجے ایک ٹرک لے کر بارڈر پر پہنچ گئی۔۳۰ ۴ بجے جنازہ پاکستانی بارڈر پر پہنچنے کی اطلاع ملنے پر ہندوستانی حکام کی اجازت سے ٹرک کو بارڈر لائن کے قریب لے گئے۔ادھر سے ایک نوجوان نے آکر وہاں السلام علیکم کہا اور مکرم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب کو مخاطب کر کے کہا۔میں فاروق مہتہ ہوں ہم آپ کی امانت لے آئے ہیں۔آپ ہم سے یہ امانت لے لیں۔یہ کہہ کر ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی۔اور وہ کچھ اور نہ بول سکے۔محترم صاحبزادہ صاحب نے سلام کا جواب دے کر صبر کی تلقین کی۔پاکستانی احباب نے بارڈر لائن سے کچھ فاصلہ پر ایمبولینس کا رسے تابوت اتارا اور کندھوں پر اٹھا کر آگے بڑھے۔ہندوستانی حدود میں احباب قادیان تھے۔سب پر رقت طاری تھی۔جنازہ کے آگے آگے محترمہ اماں جی ، اور ان کے دو بیٹے مکرم مہتہ عبد القادر صاحب و مکرم مہتہ عبدالرزاق صاحب اور اہلیہ محترمہ مہتہ عبد السلام صاحب بارڈر عبور کر کے بڑھے اور کہا۔لیجئے میاں صاحب۔ہم آپ کی امانت لے کر حاضر ہوئے ہیں۔آپ اپنی امانت ہم سے وصول کرلیں۔اور دونوں طرف کے احباب کی بے اختیار چیخیں نکل گئیں۔اس حالت میں کہ ابھی جنازہ پاکستانی احباب کے کندھوں پر تھا دوستوں کی درخواست پر مکرم صاحبزادہ صاحب نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی۔اور پھر احباب ایک دوسرے کی طرف بڑھے اور احباب قادیان نے جنازہ اٹھا کر ٹرک میں رکھ لیا۔اور پاکستانی احباب تھوڑی دیر بعد واپس چلے گئے۔ہندوستانی بارڈر کے عملہ نے بھی بڑی ہمدردی دکھائی اور پوری طرح تعاون کیا۔ضابطہ کی کارروائی کی تکمیل کے بعد ۱۵۔۶ بجے بارڈر سے قادیان کے لئے روانگی ہوئی۔امرتسر سے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی خدمت میں ایکسپریس تار دینے پر بیس پچیس منٹ صرف ہوئے۔قادیان میں خبر کا پہنچنا اور تدفین کا عمل میں آتا ی اندوہناک خبر ۶ /جنوری کو صبح مہتہ عبد الرزاق صاحب کی تار سے ملی۔جسے سنتے ہی جملہ درویشوں