اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 392 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 392

۳۹۲ بعد میں حضرت میاں صاحب نے ذکر فرمایا کہ فون برآمدہ میں ہے میں اس وقت جاگ رہا تھا۔ورنہ ممکن ہے اندر مجھے گھنٹی سنائی نہ دیتی۔مہتہ صاحب نے اپنے بھائی عبد السلام صاحب کو منگلا ڈیم اطلاع کر دی نیز انڈین ہائی کمشنر سے رات کے تین بجے جنازہ کو قادیان لے جانے کی اجازت کے حصول کے لئے بات کی۔انہوں نے ہمدردانہ تعاون کا وعدہ کیا۔چنانچہ اس وعدہ کی اطلاع فون پر حضرت میاں صاحب کو مہتہ صاحب نے پہنچائی تو فرمایا: الحمد للہ یہ تو بہت ہی اچھا ہوا۔بھائی جی نے اپنی قبر کا مقام منتخب کر کے حضرت صاحب سے اس جگہ کو اپنے لئے ریز رو کر والیا ہوا ہے۔آپ کی خواہش تھی میں قادیان میں دفن کیا جاؤں۔یہ تو بہت ہی اچھا کام ہوا۔اس طرح بھائی جی کی خواہش پوری ہو جائے گی۔نیز فرمایا۔حضرت صاحب کو بھی اطلاع دے رہا ہوں۔حضور یہ سن کر خوش ہوں گے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی طرف سے ۶ /جنوری کو اعلان ہوا کہ : 66 آج رات کے ساڑھے تین بجے کراچی سے عبد القادر صاحب مہتہ نے فون پر اطلاع دی ہے کہ حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی لاہور سے کراچی جاتے ہوئے خانیوال میں وفات پاگئے ہیں۔انا لله وانا اليه راجعون۔حضرت بھائی صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قدیم ترین صحابیوں میں سے تھے۔اور ان کو یہ غیر معمولی امتیاز بھی حاصل تھا کہ جبکہ ابھی حضرت بھائی صاحب بالکل نو جوان بلکہ گویا بچہ ہی تھے ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیک وقت ہندو مذہب ترک کر کے اسلام قبول کرنے اور احمدیت کی نعمت حاصل کرنے کی سعادت نصیب ہوئی اور پھر ایک بہت لمبا عرصہ قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت کا موقعہ میسر آیا۔چنانچہ جب ۱۹۰۸ ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا لاہور میں وصال ہوا تو اس وقت بھی حضرت بھائی صاحب حضور کے ساتھ تھے اور بالآ خر ملکی تقسیم کے بعد حضرت بھائی جی کو قادیان میں درویشی زندگی کی نعمت نصیب ہوئی۔آجکل چند دن کے لئے پاکستان تشریف لائے ہوئے تھے اور ربوہ کے قیام کے بعد اپنے بچوں کو ملنے کے لئے کراچی جارہے تھے کہ راستے میں ہی خدا کو پیارے ہو گئے۔وفات کے وقت عمر غالباً پچاسی چھیاسی سال کی تھی۔نہایت مخلص اور محبت کرنے والے فدائی بزرگ تھے۔بیعت غالباً ۱۸۹۵ء کی تھی۔جنازہ لاہور کے راستہ ربوہ لایا جارہا ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت بھائی صاحب کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور ان کی اہلیہ صاحبہ نے اپنی ضعیفی کے باوجود حضرت بھائی صاحب کی بڑی خدمت