اصحاب احمد (جلد 9) — Page 384
۳۸۴ گذشتہ پانچ سال سے میں بیمار چلا آرہا ہوں۔اور دائم المریض کی سی زندگی بسر کرتا چلا آرہا ہوں۔کبھی چار دن افاقہ ہوتا ہے تو پندرہ دن بیماری میں بسر ہو جاتے ہیں۔ملیر یا اور بعض دیگر عوارض نے بے جان سا کر رکھا ہے۔پٹھے ست اور ہڈیاں کھوکھلی ہو چکی ہیں۔خصوصا ٹانگوں کے پٹھے بریکار ہیں جن میں عموما ہر وقت ہی درد اور رعشہ سا رہتا ہے۔’بیماری اور لمبی بیماری کے نتیجہ میں بریکاری گلے کا ہار ہے۔وجوہ معاش بند اور گزارہ تنگ ہے۔مکان جو کبھی میرے آقا سیدنا امیر المومنین خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی نظر عنایت سے بن گیا تھا۔حضور نے ایک بھاری رقم قبلہ حضرت نانا جان محترم مرحوم سے بطور قرض دلائی تھی۔جس سے یہ بن سکا تھا۔وہ رقم تھوڑی تھوڑی کر کے حسب وعدہ ادا کر دی گئی۔یہ سہولت نہ میسر آتی تو مجھ سے کہاں بنتا تھا۔اس کو کھاتا چلا آرہا ہوں۔اور اس طرح اب تو اس مکان پر بھی اتن بار ہو چکا ہے کہ اگر اچھی قیمت پر فروخت ہوگیا تو بار اتر سکے گا۔عزیز کی تعلیم کے اخراجات بھی اسی مکان پر بار ہیں۔۔ان حالات میں میں نہایت ادب سے عرض کرنے کی جرات کرتا ہوں کہ موجودہ ایام میں بیماری اور بیکاری کے باعث میری کوئی آمد نہیں اور بالکل نہیں ہے۔میں بالکل خالی ہاتھ ہوں۔مال ہے نہ دولت عمل ہے کوئی نہ نیکی محض اور محض خدا کی آس اور اسی کے رحم کا آسرا ہے۔اس کی بخشش وسیع اور رحمت ہر چیز پر محیط ہے۔اور میں اس سے اس کی بخشش اور رحمت ہی کا امیدوار ہوں۔۔۔آخر پر آپ نے لکھا ہے کہ یہ پختہ عہد ہے کہ آمد ہوئی اور مکان قرض کے بارے سے سبکدوش ہو گیا تو ہر ایک کے بارے میں بخوشی میں وصیت ادا کروں گا۔66 ۱۲ - آپ کا حصہ جائداد۱۹۴۴ء میں ساڑھے چار صد روپیہ قابل ادا تھا۔آپ اپنے مکان کی ایک دکان جو برلب سٹرک تھی کفالت میں دینا چاہتے تھے۔اور دفتر نے اس پیشکش کو قبول کر لیا تھا۔لیکن پھر آپ کے بعض عزیزان نے کسی طرح انتظام کر کے نقد رقم ادا کر دی تھی۔آپ کی طرف سے تقسیم برصغیر سے پہلے حصہ جائداد اس ادا ئیگی سمیت چھ صدادا ہو چکا تھا۔اللہ تعالیٰ نے سامان فرما دیا۔ورنہ ادا ئیگی سے پہلے آپ نے بتایا تھا کہ اس کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔۔کیونکہ میں عرصہ قریباً سات آٹھ سال سے بیماریوں کا تختہ مشق بنتا چلا آرہا ہوں۔جس کا نتیجہ بریکاری اور مال کی تنگی میرے شامل ہیں۔کوئی وجہ معاش یا آمد کا ذریعہ نہیں۔“ گویا اس مکان پر جو قرض لیا تھا اس کے قطع نظر اور اسے منہا کئے بغیر آپ نے حصہ جائداد کی