اصحاب احمد (جلد 9) — Page 372
۳۷۲ -1 ایک نہایت اہم کام صحابہ قادیان کی فہرست مع مختصر کوائف کے تیار کرنا تھا جو آپ نے زیر نگرانی نظارت تالیف و تصنیف سرانجام دیا: ٢٣٠ ۲- جب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ۱۹۱۲ میں حج وغیرہ کے لئے تشریف لے گئے تو بھائی جی آپ کو بمبئی تک چھوڑنے گئے جس سے آپ کو بہت سہولت میسر آئی۔جنوری ۱۹۱۳ میں آپ کی واپسی پر بمبئی میں حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب اور بھائی جی نے استقبال کیا۔( الحکم نے ۱۴؍ جنوری ۱۹۱۳ء ) اس موقعہ پر بھائی جی نے یہ عرض کر کے حضرت خلیفہ اول سے اجازت لے لی تھی کہ میں وہاں سے سنتا تجارتی مال خرید لوں گا۔جس سے میرا کرایہ نکل آئے گا۔- پادری والٹر ایم۔اے سیکرٹری وائی۔ایم ہی۔اے لا ہور ۱۹۱۶ء میں قادیان آئے۔اور سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی سے انہوں نے ملاقات کی۔بھائی جی بیان کرتے ہیں کہ پادری صاحب کے قیام اور حضور سے ملاقات کا انتظام میرے ذریعہ سے ہوا تھا۔کھانا پکوا کر یتامی و مساکین میں تقسیم کرنا اور کسی قرض خواہ کی فوری امداد کرنا۔خرید اشیاء کے اور بٹالہ سے بلٹی لانے کے بعض نجی کام حضور کی طرف سے بھائی جی کے سپر د ہوتے رہے۔۵- جب حضور کے پرائیویٹ سیکرٹری کے طور پر خاکسار مؤلف خدمت پر تھا تو ۱۹۳۸ یا ۱۹۳۹ میں حیدر آباد دکن سے ایک کمپنی کے ایک ذمہ دار شخص نے حضور سے ملاقات کر کے بتایا کہ آلہ وکٹو گراف آپ اور آپ کے گھروں میں اور نیچے دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں لگانے سے بہت سا وقت آپ کا بچ سکتا ہے اور آپ جس سے چاہیں بات کر سکیں گے۔سو حضور نے ان سب مقامات پر اور نظارت علیا میں بھی لگوانے کا آرڈر دیا تا کہ اگر ضرورت ہوتو حضور صدرانجمن کو بھی مخاطب فرما سکیں۔ان صاحب کے ساتھ پیمائش کے وقت خاکسار کو دارامسیح میں حضور نے بھجوایا۔اور ہرحرم کے قیامگاہ میں جگہیں متعین فرما دیں۔جب اس آلہ کے اور اس کی تاروں کے لگانے کا موقعہ آیا تو دار مسیح کے اندر کام کرانے کی نگرانی حضور نے بھائی جی کے سپر دفرمائی تھی۔۲۳۳ ۶- حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب و حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کے سفر لاہور میں بھی بھائی جی ان کے ہمرکاب رہے۔۔آپ لکھتے ہیں۔لاہور بغرض تلاش مکان برائے حضرت خلیفہ امسیح وخرید ادویہ دو پل ے۔چلا گیا۔( روز نامچه دوکان بتاریخ ۲۶ را پریل ۱۹۱۸ء)